ہم مرتے دم تک اپنے وطن کے لیے مضبوطی سے ڈٹے رہیں گے! ایرانی صدر

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ایرانی عوام کی شکایات، پیش آنے والے جرائم اور پیدا ہونے والے عدم اعتماد کا معاملہ اٹھائیں گے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت اور ایران کا موقف پیش کرنے کے لیے امریکہ روانہ ہوگئے۔

روانگی سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ ہم کئی مرتبہ مذاکرات کی میز پر گئے اور معاہدوں پر دستخط کیے، لیکن بدقسمتی سے پوری دنیا نے دیکھا کہ وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری نہیں کی گئی۔

ایرانی صدر نے کہا کہ لوگوں کو طاقت کے ذریعے سرِ تسلیم خم کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ غزہ، فلسطین، شام، یمن، ایران اور دیگر مقامات پر جو کچھ ہورہا ہے، وہ ان حقائق کو ظاہر کرتا ہے جن کا دنیا بھر کے لوگ مشاہدہ کررہے ہیں۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ دشمن ایرانی عوام کو سرِ تسلیم خم کرنے پر مجبور کرنے کی کوشش میں حتی الامکان راستے بند کررہے ہیں۔ وہ فوجی ذرائع سے اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے اور اب دیگر ذرائع سے کارروائی کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دشمن زمینی اور فضائی راستے بند کرتے ہیں، اندرونی اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کرتے ہیں، میڈیا اور نسلی گروہوں کو استعمال کرتے ہیں اور ہمیں اندر سے کمزور کرنے اور سرِ تسلیم خم کرنے پر مجبور کرنے کے لیے ہماری کمزوریوں سے حتی الامکان فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایرانی صدر نے کہا کہ دشمن مصنوعی ذہانت اور جدید ہتھیاروں سے کیے گئے جرائم کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی قرار دیتے ہیں، غزہ، فلسطین، شام اور ایران میں حملوں کا نشانہ بننے والے طلبہ اور شہری کیا دہشت گرد تھے؟

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے بہت مضبوطی اور طاقت سے اپنے موقف کا دفاع کیا ہے، تمام تر ناانصافی اور مظالم کے باوجود ایرانی قوم باوقار انداز میں مضبوطی سے کھڑی رہی۔

مسعود پزشکیان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اپنے وطن کے لیے ایرانی قوم مرتے دم تک اسی طرح مضبوطی سے ڈٹی رہے گی۔