سینیٹ ملازمین کو اضافی الاؤنس دینے کا معاملہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، جس پر سینیٹ کی متعلقہ کمیٹی نے وزارت قانون سے قانونی رائے طلب کر لی ہے۔
کمیٹی کے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے بتایا کہ اضافی الاؤنس کے معاملے پر وزارت قانون کی رائے مانگی گئی ہے۔
اجلاس کے دوران چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اس معاملے میں وزارت خزانہ کا کوئی کردار نہیں ہے۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کیے گئے قانون کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا اور عدالتیں پارلیمانی امور میں مداخلت نہیں کر سکتیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر سینیٹ اپنے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا یا انہیں اضافی الاؤنس دینا چاہتی ہے تو یہ معاملہ عدالت کے فیصلے کا محتاج نہیں ہونا چاہیے۔ ان کے بقول وزارت خزانہ، وزارت قانون اور اے جی پی آر کا اس حوالے سے کوئی اختیار نہیں ہے۔
سلیم مانڈوی والا نے ہدایت کی کہ اے جی پی آر ایک ہفتے کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر معاملہ استحقاق کمیٹی کو بھیجا جائے گا اور وضاحت طلب کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سینیٹ کو اپنے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی کے لیے اے جی پی آر کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ اگر چاہے تو اپنے اختیارات میں مزید اضافہ بھی کر سکتی ہے، جبکہ سینیٹ کے بجٹ کی منظوری وزارت خزانہ نہیں دیتی۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ متعلقہ کمیٹی چیئرمین سینیٹ کو سفارش کرے گی کہ سینیٹ کو اے جی پی آر کے دائرہ کار سے الگ کیا جائے۔






