پٹرولیم لیوی کے خلاف گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنے کا اعلان

کوئٹہ: جماعت اسلامی بلوچستان کے امیر اور حق دو تحریک کے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمن بلوچ نے بلوچستان میں بدامنی، دہشت گردی، بے روزگاری، بارڈر کی بندش اور پٹرولیم مصنوعات پر لیوی کے خلاف 29 اگست کو گورنر ہاؤس کوئٹہ کے سامنے دھرنے کا اعلان کردیا۔

کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مولانا ہدایت الرحمن نے کہا کہ دھرنا ہفتہ 29 اگست کو سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا اور جماعت اسلامی کے مرکزی امیر کے اعلان کے بعد ختم کیا جائے گا۔ حکومت نے پرامن احتجاج میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو اسی مقام پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل طاقت کے ذریعے حل نہیں کیے جاسکتے، حکمرانوں کو عوام کے بنیادی مسائل، روزگار اور امن و امان پر توجہ دینا ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے مراعات یافتہ طبقے پر بوجھ ڈالا جائے اور عوام کی تذلیل کا سلسلہ بند کیا جائے۔

مولانا ہدایت الرحمن نے قومی شاہراہوں پر خواتین کی تلاشی کے دوران مبینہ طور پر چادر اور دوپٹہ اتارنے کے واقعات پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اس معاملے پر ہر فورم پر آواز اٹھاتے رہیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے کراچی، لاہور، پشاور اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں میں پٹرولیم لیوی، بے روزگاری، بدامنی اور دہشت گردی کے خلاف احتجاج جاری ہیں۔ 22 اگست کو کوئٹہ کی 23 شاہراہیں بلاک کرکے احتجاج کیا گیا تھا، اب اسی احتجاج کو وسعت دیتے ہوئے گورنر ہاؤس کے سامنے دھرنا دیا جائے گا۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ جماعت کے ارکان صوبائی اسمبلی بھی دھرنے میں شریک ہوں گے اور احتجاج مکمل طور پر پرامن اور جمہوری ہوگا۔

مولانا ہدایت الرحمن نے مزید کہا کہ گزشتہ ڈھائی سال کے دوران ان کے خلاف تین ایف آئی آرز درج کی گئی ہیں، تاہم وہ مقدمات سے گھبرانے والے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خلاف مقدمات ان کے لیے اعزاز کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اسماء جتک کے والد اور ماموں کے قتل کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ انہوں نے اسمبلی فلور پر معاملہ اٹھایا تھا اور اسپیکر اسمبلی نے رولنگ بھی دی ہے۔ 31 اگست کے اجلاس میں اسپیکر سے جواب طلب کریں گے کہ قاتلوں کی گرفتاری اور متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کے حوالے سے کیا پیش رفت ہوئی۔