بھارت کو برکس اجلاس میں ہزیمت اور شدید سبکی کا سامنا

*برکس اجلاس میں بھارت کو سفارتی سبکی کا سامنا*

 

بھارت کی میزبانی میں ہونے والے برکس اجلاس میں میزبان ملک کو سفارتی ہزیمت اور شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔

 

اجلاس میں عالمی رہنماؤں کی بے رخی نے بھارتی سفارت کاری پر سوالات کھڑے کر دیے۔ عالمی رہنماؤں نے اجلاس کے دوران باہمی ملاقاتوں اور گفتگو کو ترجیح دی جبکہ میزبان وزیراعظم نریندر مودی پس منظر میں رہے۔

 

فیملی فوٹو کے موقع پر بھی مودی کی جانب سے چینی صدر شی جن پنگ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش ناکام رہی اور انہیں شرمندگی اٹھانی پڑی۔

 

سفارتی حلقوں کے مطابق سعودی عرب نے اجلاس میں صرف وزیر خارجہ کی سطح پر نمائندگی کی جبکہ برازیل کے صدر اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوئے۔ اسے بھارت کی بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

 

اجلاس میں ملائیشین وزیراعظم نے بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف لگائے گئے الزامات کو مسترد کر دیا۔

 

اجلاس کے عشائیے میں گوشت کے بغیر مینو پیش کیے جانے پر بھی تنقید کی گئی اور اسے ہندوتوا کے انتہا پسندانہ رویے سے جوڑا گیا۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ برکس سمٹ کی ناکامی بھارت کی کمزور ہوتی عالمی ساکھ کا واضح ثبوت ہے۔