ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے نائب سیاسی افسر علی محمدی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آبنائے ہرمز سے متعلق مؤقف پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
مشہد میں حکومتی حامیوں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے علی محمدی نے کہا کہ اگر امریکا واقعی آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو وہ اپنے کسی بحری جہاز کو ایرانی حدود کے قریب 100 کلومیٹر تک لا کر دکھائے۔
ایرانی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ امریکا اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ اس کے جنگی جہاز ایرانی حدود کے قریب آنے کی صورت میں ایرانی فورسز کی جانب سے ردعمل کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق حالیہ دنوں میں بھی اس حوالے سے ایک مثال سامنے آ چکی ہے، تاہم انہوں نے واقعے کی مزید تفصیلات بیان نہیں کیں۔
علی محمدی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس وقت خلیج فارس، بحیرہ عمان اور آبنائے ہرمز میں کوئی امریکی فوجی موجودگی یا امریکی عسکری سازوسامان تعینات نہیں ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکی بحری جہاز ممنوعہ یا حساس حدود کے قریب آئے تو اسے ممکنہ نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کے عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ کویت اور بحرین سے روانہ ہونے والے بحری جہاز ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کی نگرانی میں ہیں۔ ان کے مطابق کسی بھی جہاز کی جانب سے مقررہ ضوابط کی خلاف ورزی کی صورت میں قواعد کے تحت کارروائی کی جائے گی۔
ایرانی عہدیدار کے ان بیانات پر امریکا کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔






