سعودی عرب پر ڈرون حملے کے بعد عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی نے اعلیٰ فوجی کمانڈر کو برطرف کر دیا۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق عراقی وزیراعظم آفس کے بیان میں کہا گیا ہے کہ برطرف کیے گئے کمانڈر جنوبی عراق کے صوبے میسان میں فوجی کارروائیوں کی سربراہی کر رہے تھے۔
عراقی وزیراعظم کے دفتر کے بیان کے مطابق سعودی عرب پر حالیہ ڈرون حملے عراق سے کیے گئے تھے، جبکہ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ترک نیوز ایجنسی انادولو کے مطابق عراقی وزیراعظم نے واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
عراقی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے حملوں کے بارے میں فوری تحقیقات کرنے اور حملے میں ملوث ہر شخص کے خلاف قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے حملے کے بعد اپنی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔
سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق 1200 کلومیٹر طویل پائپ لائن کو احتیاطی اقدام کے طور پر بند کیا گیا ہے۔ سعودی عرب اور عراق کے مطابق پائپ لائن پر حملہ عراق سے کیا گیا، جہاں ایران نواز ملیشیا سرگرم ہیں۔
سعودی وزارت خارجہ کے مطابق پائپ لائن کو ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ عراقی وزیراعظم کی درخواست پر فی الحال جوابی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ادھر یمنی حکومت کے ذرائع کے مطابق حوثیوں نے جمعہ کو بحیرۂ احمر کے داخلی راستے پر واقع اسٹریٹجک جزیرے پیرم پر قبضہ کر لیا۔
رائٹرز نے ایرانی ذرائع سے دعویٰ کیا کہ ایران نے گزشتہ ہفتے حوثیوں کو سعودی عرب کے خلاف حملے تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے مزید فنڈز، ہتھیار اور اعلیٰ سطح کے افسران فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا ہے کہ سعودی بحری جہازوں کے سوا تمام جہازوں کے لیے سمندری آمدورفت محفوظ ہے، جبکہ سعودی جہازوں پر پہلے سے اعلان کردہ پابندی برقرار ہے۔






