فیصل آباد: 2019 میں مسلم لیگ ن کی رہنما مریم نواز کی ریلی کے دوران توڑ پھوڑ کے معاملے پر مجسٹریٹ دفعہ 30 کی عدالت میں تھانہ فیکٹری ایریا کے مقدمے کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے مقدمے میں مسلم لیگ ن کے وزراء، سابق و موجودہ ارکان اسمبلی سمیت 51 افراد کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔
عدالت نے ایس ایچ او تھانہ فیکٹری ایریا کو حکم دیا ہے کہ تمام ملزمان کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا جائے۔ مقدمے کی آئندہ سماعت کے لیے 12 اکتوبر کی تاریخ مقرر کردی گئی ہے۔
عدالت کی جانب سے جن افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں ان میں وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری اور وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک بھی شامل ہیں۔
اس کے علاوہ مسلم لیگ ن کے ایم این اے شہباز بابر اور ارکان پنجاب اسمبلی کاشف رحیم اور جعفر علی ہوچہ کے بھی ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔
مقدمے میں سابق ارکان قومی اسمبلی اکرم انصاری، میاں عبدالمنان اور اعجاز ورک بھی ملزمان میں شامل ہیں، جبکہ سابق ایم این اے میاں جاوید لطیف اور قاسم فاروق کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے ہیں۔
عدالت نے پولیس کو ملزمان کی گرفتاری کے بعد انہیں مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
واضح رہے کہ یہ مقدمہ 22 جولائی 2019 کو مریم نواز کی ریلی کے دوران مبینہ توڑ پھوڑ اور دیگر واقعات کے حوالے سے تھانہ فیکٹری ایریا میں درج کیا گیا تھا۔
مقدمے کی کارروائی کے دوران عدالت نے مسلسل عدم حاضری پر ملزمان کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے اب ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں۔






