امریکی فورسز نے ایرانی جزیرے لارک پر اچانک بمباری کی ہے، جس کے نتیجے میں امریکی حکام کے مطابق دو ایرانی میزائل لانچرز کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے جزیرے لارک پر میزائل لانچ پوزیشنز کو نشانہ بنایا، جہاں ان کے دعوے کے مطابق پاسداران انقلاب راکٹ حملے کی تیاری کر رہے تھے۔ حکام کے مطابق ایران کے علاقے میں یہ 30 روز بعد امریکا کی پہلی فوجی کارروائی ہے۔
آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ لارک اسٹریٹجک اعتبار سے اہم مقام رکھتا ہے اور خلیج کے دہانے پر موجود بحری راستوں کی نگرانی کے حوالے سے اس کی اہمیت ہے۔ خطے میں کشیدگی، بحری سلامتی اور عالمی توانائی کی ترسیل کے تناظر میں بھی جزیرہ لارک کو اہم سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب پاسداران انقلاب نے کہا ہے کہ جزیرے لارک پر امریکی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ بیان میں کہا گیا کہ جارحیت کا بدلہ لیا جائے گا اور حملہ آوروں کو سزا دی جائے گی۔ پاسداران انقلاب کے مطابق امریکی کارروائی میں فوجی اہلکاروں کے ساتھ شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔






