سانحہ پمز ، مصطفیٰ کمال نے استعفیٰ دیا، وزیراعظم نے منظور نہ کیا ، اہم خبر آ گئی

انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) میں ہونے والی جان لیوا آتشزدگی کے چند گھنٹوں کے اندر وزیراعظم شہباز شریف کو تحریری طور پر اپنا استعفیٰ پیش کر دیا تھا، تاہم وزیراعظم نے استعفیٰ قبول کرنے کے بجائے انہیں انکوائری مکمل ہونے تک عہدے پر برقرار رہنے کی ہدایت کی۔

ذرائع کے مطابق 26 اگست کو پمز کے مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر میں آتشزدگی کے واقعے، جس کے نتیجے میں 14 نومولود جاں بحق ہوئے، کے فوراً بعد وفاقی وزیر نے وزیراعظم آفس کو اپنے فیصلے سے آگاہ کر دیا تھا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ استعفیٰ تحریری طور پر پیش کیا گیا اور واقعے کے چند گھنٹوں کے اندر وزیراعظم کو اس سے آگاہ کر دیا گیا۔ تاہم وزیراعظم شہباز شریف نے استعفیٰ قبول نہیں کیا اور وزیر صحت کو ہدایت کی کہ وہ سانحے کی وجوہات معلوم کرنے اور ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے قائم انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کا انتظار کریں۔

ذرائع کے مطابق وزیر صحت کو یہ بھی ہدایت کی گئی کہ انکوائری جاری رہنے کے دوران استعفے کو منظر عام پر نہ لایا جائے۔ یہ پیش رفت اس لحاظ سے اہم ہے کہ حکومت نے سانحے کے فوراً بعد وفاقی سیکریٹری صحت محمد اسلم غوری کے خلاف کارروائی کی، جبکہ مصطفیٰ کمال بدستور اپنے عہدے پر فائز رہے۔

مصطفیٰ کمال سے رابطہ کرکے استعفیٰ پیش کرنے اور وزیراعظم کی جانب سے اسے قبول نہ کیے جانے سے متعلق مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی، تاہم انہوں نے اس حوالے سے بھیجے گئے پیغامات کا جواب نہیں دیا۔

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور وزیراعظم سے وابستہ اعلیٰ حکام سے بھی اس معاملے پر مؤقف لینے کے لیے رابطہ کیا گیا۔ حکام نے کہا کہ انہیں ایسے کسی استعفے کے بارے میں معلومات نہیں ہیں۔

وزیر صحت سانحہ پمز کی انکوائری کی عوامی طور پر حمایت کرتے رہے ہیں اور متعدد مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ ذمہ دار افراد کو کسی صورت نہیں بخشا جائے گا۔ سینیٹ سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کو محض چند روز تک جاری رہنے والی بحث بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، جبکہ انہوں نے احتساب کے ساتھ ساتھ صحت کے شعبے میں وسیع تر اصلاحات پر بھی زور دیا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم پہلے ہی عبوری انکوائری رپورٹ پیش کیے جانے کے بعد پمز کے اعلیٰ حکام کے خلاف کارروائی کا حکم دے چکے ہیں۔ پمز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، چلڈرن اسپتال اور مدر اینڈ چائلڈ ہیلتھ سینٹر کے اعلیٰ حکام سمیت 8 افسران کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے گئے، جبکہ ان کے خلاف فوجداری کارروائی کی بھی ہدایت کی گئی۔

عبوری انکوائری رپورٹ میں اسپتال کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاریوں میں سنگین خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق نوزائیدہ بچوں کی نرسری میں آتشزدگی کی صورت میں انخلا اور ہنگامی کارروائیوں کے لیے تفصیلی اور مناسب طور پر مشق شدہ طریقہ کار موجود نہیں تھا۔

رپورٹ میں آگ لگنے کے درست مقام اور اس کی وجہ کا تعین کرنے کے لیے مزید تکنیکی اور فرانزک تحقیقات کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر صحت سانحے میں ہلاکتوں کے فوراً بعد عہدہ چھوڑنے کے لیے تیار تھے، تاہم وزیراعظم نے ذمہ داری کا تعین انکوائری کے ذریعے ہونے تک انہیں عہدے پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ دوسری جانب وفاقی سیکریٹری صحت کے خلاف کارروائی پہلے ہی عمل میں لائی جا چکی ہے۔