نیپال میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 900 سے متجاوز، مزید سیلاب کا الرٹ جاری

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں، جبکہ 6 روز کے دوران ہلاکتوں کی تعداد 903 تک پہنچ گئی ہے۔

نیپالی حکام کے مطابق سیلاب کے بعد ڈھائی ہزار سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن میں 275 بھارتی، 43 آسٹریلوی، امریکی، یوکرینی اور دیگر ممالک کے شہری شامل ہیں۔ ہائیڈرو پاور منصوبوں کے 6 مقامات پر 933 کارکن بھی پھنسے ہوئے ہیں، جنہیں نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

نیپال کی وزارتِ تعلیم کے مطابق سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ 3 اضلاع میں کم از کم 19 اسکول متاثر ہوئے ہیں، جبکہ 200 سے زائد طلبہ تاحال لاپتہ ہیں۔

دوسری جانب نیپالی حکام نے مزید سیلاب کے خدشے کے پیش نظر شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے متاثرہ اضلاع کے رہائشیوں کو انتہائی محتاط رہنے کی ہدایت کی ہے۔

عالمی خبر رساں ایجنسی کے مطابق یہ وارننگ نیپال اور تبت کی سرحد پر واقع بھوٹے کوشی دریا میں پانی کی سطح بلند ہونے کے بعد جاری کی گئی۔ اتوار کی صبح شہریوں کے موبائل فونز پر سیلاب سے متعلق انتباہی پیغامات بھی بھیجے گئے۔

ادھر امدادی ٹیمیں کھٹمنڈو کو بدترین متاثرہ علاقوں میں سے ایک سے ملانے والی اہم شاہراہ سے ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں تاکہ متاثرہ علاقوں تک رسائی بحال کی جا سکے۔

چینی حکام کے مطابق تبت میں سیلاب کے باعث 16 افراد ہلاک جبکہ 246 لاپتہ ہوئے ہیں۔ لاپتہ افراد میں تقریباً 100 کا تعلق نیپال سے ہے، جبکہ دیگر کا تعلق ایک درجن سے زائد ممالک سے بتایا گیا ہے۔

نیپال میں نئی سیلابی وارننگ چینی حکام کی جانب سے نیپالی حکام کو بالائی علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافے سے آگاہ کیے جانے کے بعد جاری کی گئی ہے۔