امریکا کا ایران پر نئی سخت ترین پابندیوں کا اعلان

امریکا نے ایران کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ نئی پابندیوں کا دائرہ ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، ہوابازی، سونے اور شپنگ کے شعبوں تک بڑھا دیا گیا ہے۔

امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد ایرانی حکومت کے معاشی ذرائع کو محدود کرنا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے ممالک اور اداروں کو بھی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

اسکاٹ بیسینٹ نے خبردار کیا کہ جو ممالک امریکی توقعات کے مطابق اقدامات نہیں کریں گے، انہیں ڈالر کے مالیاتی نظام سے باہر ہونے کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی دباؤ کے ذریعے ایران پر دباؤ بڑھایا جائے گا اور مزید فوجی کارروائی کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

ایران نے امریکی اقدام کو مسترد کرتے ہوئے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ امریکا اب ایران کے تعلقات یا اس کے تجارتی شراکت داروں کو اپنی مرضی کے مطابق محدود کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

ایرانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی نے بھی کہا کہ اقتصادی پابندیاں ایران کے خلاف مؤثر ثابت نہیں ہوں گی۔ ان کے مطابق ایران تیل کی برآمدات اور اپنے معاشی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔

ایرانی وزیر خزانہ علی مدنی زادہ نے امریکی پابندیوں کو واشنگٹن کی ایک اور ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ تہران ہر قسم کے معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے طویل مدتی پابندیوں سے نمٹنے کے لیے منصوبہ بندی کر رکھی ہے۔

دوسری جانب چین نے بھی امریکی پابندیوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لِن جیان نے کہا کہ پابندیاں اور دباؤ مسائل کے حل میں مددگار ثابت نہیں ہوتے۔ انہوں نے تمام فریقین پر تحمل کا مظاہرہ کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین صورتحال کا جائزہ لیتا رہے گا اور اپنے قانونی حقوق اور مفادات کا تحفظ کرے گا۔