کیا پاکستان میں بھی کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کی جانیوالی ہے؟ جانئے

اسلام آباد ہائی کورٹ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو ریگولیٹ کرنے اور اس حوالے سے قانون سازی کے لیے درخواست دائر کر دی گئی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل کے مطابق عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کے لیے باقاعدہ قانونی اور ریگولیٹری نظام وضع کیا جائے، جبکہ بچوں کی عمر کی تصدیق کے لیے بھی مؤثر نظام متعارف کرایا جائے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بچے سائبر بلنگ، آن لائن ہراسانی اور نقصان دہ مواد سمیت مختلف ڈیجیٹل خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اس لیے ریاست کو بچوں کے ڈیجیٹل حقوق، پرائیویسی اور ذہنی و جسمانی تحفظ کے لیے جامع پالیسی مرتب کرنی چاہیے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی ذمہ داریاں عائد کی جانی چاہئیں۔

یہ درخواست شہری وقاص ناصر نے اپنے وکلا جلال حیدر، یحییٰ فرید خواجہ اور محمد ذیشان علی کے ذریعے دائر کی ہے۔

دنیا کے مختلف ممالک میں بھی کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ آسٹریلیا نے دسمبر 2025 میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی نافذ کی، جبکہ ملائیشیا، انڈونیشیا، برازیل، فرانس اور پرتگال سمیت دیگر ممالک نے بھی کم عمر صارفین کے لیے مختلف پابندیاں یا والدین کی اجازت سے متعلق قوانین متعارف کرائے ہیں۔

برطانیہ، کینیڈا، ناروے، ڈنمارک، پولینڈ، سلووینیا، نیوزی لینڈ، اسپین، آسٹریا اور یورپی یونین میں بھی کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کو محدود کرنے کے حوالے سے مختلف قانونی اقدامات زیر غور یا عمل درآمد کے مراحل میں ہیں۔