امریکا نے شام کو دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے نکال دیا

امریکا نے شام کو دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست سے خارج کردیا ہے، جس کے بعد شام کے عالمی مالیاتی نظام سے دوبارہ جڑنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق شام کو فہرست سے نکالنے کا فیصلہ پیر سے نافذ ہوگیا۔ یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 8 جولائی کو کانگریس کو شام کا نام فہرست سے نکالنے کے ارادے سے آگاہ کرنے اور 45 روزہ جائزے کے عمل کی تکمیل کے بعد سامنے آئی۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ یہ فیصلہ شام کی نئی حکومت کی جانب سے کیے گئے مثبت اقدامات اور دی گئی یقین دہانیوں کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق صدر احمد الشرع کی حکومت نے شام کو عالمی دہشت گردی کی کارروائیوں سے دور رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے بھی امید ظاہر کی کہ اس فیصلے کے بعد ملک عالمی مالیاتی اور اقتصادی نظام سے دوبارہ منسلک ہوسکے گا، جس سے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

امریکا نے شام کو 1979 میں دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ واشنگٹن نے اس وقت سابق صدر حافظ الاسد کی حکومت پر مسلح گروہوں کی حمایت کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کے بعد بشار الاسد کے دور حکومت میں بھی شام اس فہرست میں برقرار رہا۔

بشار الاسد کو دسمبر 2024 میں باغیوں کے اتحاد نے اقتدار سے ہٹا دیا تھا، جس کی قیادت موجودہ شامی صدر احمد الشرع نے کی تھی۔

امریکی فیصلے کے ساتھ نصرہ فرنٹ کو بھی خصوصی طور پر نامزد عالمی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست سے خارج کردیا گیا ہے۔ تاہم کیوبا، ایران اور شمالی کوریا اب بھی امریکا کی دہشت گردی کے سرپرست ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔

دہشت گردی کے سرپرست ملک کی حیثیت سے شام پر امریکی غیر ملکی امداد، دفاعی سامان کی برآمد، بعض اشیا کی فراہمی اور مالی لین دین سے متعلق مختلف پابندیاں عائد تھیں۔ اس حیثیت نے عالمی بینکوں اور سرمایہ کاروں کے لیے بھی قانونی اور مالی پیچیدگیاں پیدا کر رکھی تھیں۔

امریکی حکومت نے جولائی 2025 میں شام پر عائد وسیع تر اقتصادی پابندیاں ختم کردی تھیں، تاہم بشار الاسد اور ان کے ساتھیوں، انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے ذمہ دار افراد، منشیات کے اسمگلروں، داعش اور القاعدہ سے وابستہ گروہوں سمیت بعض دیگر عناصر پر پابندیاں برقرار رکھی گئی ہیں۔

تازہ فیصلے کے بعد شام کو امید ہے کہ عالمی بینکاری اور سرمایہ کاری کے نظام تک رسائی مزید آسان ہوگی اور جنگ سے تباہ حال ملک کی تعمیر نو کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا۔

شامی وزارت خزانہ کے مطابق ملک کے وزیر خزانہ محمد یسر برنیہ نے بینک آف امریکا کے حکام سے ممکنہ تعاون اور شام کو عالمی مالیاتی نظام میں دوبارہ شامل کرنے کے حوالے سے بات چیت بھی کی ہے۔

امریکا اور شام کے درمیان گزشتہ کئی ماہ سے اقتصادی اور خارجہ پالیسی سے متعلق مذاکرات جاری تھے۔ واشنگٹن کے مطابق احمد الشرع کی حکومت نے داعش کے خلاف تعاون کیا ہے، جبکہ پابندیوں میں نرمی کا مقصد شام کو استحکام، غیر ملکی سرمایہ کاری اور طویل جنگ کے بعد معیشت و بنیادی ڈھانچے کی بحالی کا موقع فراہم کرنا ہے۔