انقرہ (آئی این پی) ترکیہ نے غزہ جانے والے امدادی بحری بیڑے پر قبضہ اور رضاکاروں کی گرفتاری کے مقدمے میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور ایک اسرائیلی عہدیدار افیک موسکووچ کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس جاری کرنے کی درخواست کردی۔
ترک میڈیا کے مطابق وزیرِ انصاف اکین گورلیک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بیان میں کہا کہ استنبول کی 11ویں ہائی کریمنل کورٹ نے 14 جولائی کو نیتن یاہو اور موسکووچ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزارتِ داخلہ سے ان دونوں افراد کی بین الاقوامی سطح پر تلاش کا عمل شروع کرنے کے لیے انٹرپول سے ریڈ نوٹس کی درخواست کی گئی ہے تاکہ ملزمان کا سراغ لگایا جا سکا۔
اگر انٹرپول ترکیہ کی درخواست کو اپنے ضوابط کے مطابق منظور کرتا ہے تو ریڈ نوٹس عالمی سطح پر نیتن یاہو کی نقل و حرکت اور بعض ممالک کے ساتھ ان کے ممکنہ سفری معاملات کو قانونی پیچیدگیوں سے دوچار کرسکتا ہے۔
ترک حکام نے بتایا کہ یہ مقدمہ غزہ کے لیے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد لے جانے والے گلوبل فریڈم فلوٹیلا کے خلاف بین الاقوامی پانیوں میں اسرائیل کی مبینہ مسلح کارروائی اور گرفتاری سے متعلق ہے۔ مقدمے میں مجموعی طور پر 35 افراد نامزد ہیں۔
ترکیہ کا موقف رہا ہے کہ امدادی مشن میں شامل شہریوں کو بین الاقوامی پانیوں میں روکا گیا، ان کے خلاف طاقت استعمال کی گئی اور انہیں حراست میں لیا گیا۔
ترک استغاثہ نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسرائیلی حکام کے خلاف مقدمہ قائم کیا ہے۔ ترک عدالت میں نیتن یاہو اور دیگر ملزمان کے خلاف جن الزامات پر کارروائی کی جارہی ہے ان میں نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم سمیت متعدد سنگین جرائم بھی شامل ہیں۔
ترکیہ کے وزیرِ انصاف نے کہا کہ ان کا ملک غزہ میں ہونے والے جرائم کو نظرانداز نہیں ہونے دے گا اور ذمہ دار افراد کو استثنیٰ فراہم نہیں کیا جائے گا۔
انٹرپول کا کوئی بھی رکن ملک کسی بھی مطلوب فرد کا سراغ لگانے اور عارضی طور پر گرفتار کرنے کی درخواست کرسکتا ہے تاہم حتمی طور پر گرفتاری کا فیصلہ متعلقہ ملک اپنے قوانین کے تحت کرتا ہے۔
یاد رہے کہ 14 جولائی کو استنبول کی عدالت نے نیتن یاہو کے خلاف انٹرپول ریڈ نوٹس کی درخواست دینے کا عبوری فیصلہ کیا تھا۔ عدالت کا مقصد نیتن یاہو کو مقدمے کی کارروائی کے لیے عدالت کے سامنے لانا تھا۔






