آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایران اور امریکا کے متضاد مؤقف سامنے آگئے
آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال پر ایران اور امریکا کے درمیان اختلافات برقرار ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ قانونی بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے، جبکہ ایران کی متعلقہ اتھارٹی نے اس کے برعکس مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں یہاں سے بحری آمدورفت ممکن نہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اتوار کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی بحری راستہ ہے جہاں سے قانونی طور پر سفر کرنے والے تمام بحری جہازوں کی نقل و حرکت جاری ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج ایران کی جانب سے مبینہ دھمکیوں، ہراسانی، جارحانہ اقدامات اور یکطرفہ اعلانات کے باوجود بحری راستے کی آزادی برقرار رکھنے کے لیے تیار اور تعینات ہیں۔
سینٹ کام کے مطابق ایران کو آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول حاصل نہیں اور بحری جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق جاری ہے۔
اس سے قبل امریکی بحریہ کے زیر نگرانی کام کرنے والے جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر (جے ایم آئی سی) نے بھی کہا تھا کہ عمان کے ساحل کے قریب جنوبی بحری راستہ دونوں اطراف سے جہازوں کی آمدورفت کے لیے کھلا ہے۔ تاہم ادارے نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز میں سیکیورٹی خطرات کی سطح اب بھی انتہائی بلند ہے۔
ایرانی اتھارٹی کا امریکی دعوے سے اختلاف
دوسری جانب آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کے نئے نظام کی نگرانی کرنے والی ایرانی اتھارٹی نے امریکی بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں اس آبی گزرگاہ سے بحری جہازوں کی آمدورفت ممکن نہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق جیسے ہی خطے میں حالات بہتر اور استحکام بحال ہوگا، بحری آمدورفت سے متعلق درخواستوں کا مقررہ طریقہ کار کے تحت جائزہ لیا جائے گا اور ضروری اجازت نامے جاری کیے جائیں گے۔
یوں آبنائے ہرمز کے معاملے پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان مؤقف کا واضح تضاد سامنے آیا ہے۔ ایک جانب امریکا بحری ٹریفک معمول کے مطابق جاری رہنے کا دعویٰ کر رہا ہے، جبکہ ایران موجودہ حالات میں جہازوں کی آمدورفت کو ناممکن قرار دے رہا ہے۔
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے یہاں پیدا ہونے والی کشیدگی عالمی بحری تجارت، توانائی کی فراہمی اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی کے حوالے سے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






