علی امین گنڈاپور کا پی ٹی آئی قیادت پر تنقید کرتے ہوئے آڈیو پیغام سامنے آگیا
سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کا ایک آڈیو پیغام منظر عام پر آیا ہے، جس میں انہوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کے بعض فیصلوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے تنقید کی ہے۔
آڈیو پیغام میں علی امین گنڈاپور نے وفاقی حکومت کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی)، ملاکنڈ میں ٹیکس کے نفاذ اور پی ٹی آئی کی کانفرنس میں شرکت کے فیصلے پر ناراضی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سمیت وفاقی حکومت میں شامل جماعتوں نے ملاکنڈ میں ٹیکس نافذ کیا، جبکہ اب وفاق اے پی سی بلا کر اس معاملے کی ذمہ داری صوبائی حکومت پر ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن عوام نے عمران خان اور پی ٹی آئی کو ووٹ دیا، انہیں وفاق کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔
علی امین گنڈاپور نے سوال اٹھایا کہ پی ٹی آئی میں فیصلے کون اور کس مشاورت سے کر رہا ہے، اور پارٹی قیادت نے اے پی سی میں شرکت کا فیصلہ کس بنیاد پر کیا۔ ان کے مطابق ملاکنڈ میں ٹیکس 2018 کی نگران حکومت کے دور میں نافذ کیا گیا تھا، تاہم پی ٹی آئی کی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد پہلے ہی کابینہ اجلاس میں اس معاملے کو اٹھا کر ٹیکس ختم کر دیا تھا۔
سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے مزید کہا کہ پارٹی، نظریے اور ان کارکنوں کا خیال رکھا جائے جنہوں نے قیادت کو ووٹ دے کر پارلیمنٹ تک پہنچایا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






