ایرانی حملوں کے خلاف خلیجی ممالک متحد، سعودی عرب، عمان اور کویت کے سخت بیانات سامنے آگئے

سعودی عرب نے کہا ہے کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ عالمی بحری تجارت، جہاز رانی اور آبنائے ہرمز میں آمدورفت کی آزادی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

سعودی حکام کے مطابق اگرچہ حالیہ ایرانی حملوں میں سعودی عرب کو براہِ راست نشانہ نہیں بنایا گیا، تاہم گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز سے گزرنے والا ایک سعودی آئل ٹینکر حملے سے متاثر ہوا تھا۔

دوسری جانب عمان نے بھی اپنی سرزمین پر ہونے والے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ عمانی حکومت کا کہنا ہے کہ سلطنت اپنی سرزمین پر کسی بھی حملے کو برداشت نہیں کرے گی۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایرانی وزیر خارجہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی سے متعلق مذاکرات کے لیے عمان کے دورے پر تھے۔

ادھر کویت کی وزارت خارجہ نے بھی ایرانی حملوں کو ملکی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ کویتی وزارت کے مطابق یہ حملے ایران کے جارحانہ رویے کی عکاسی کرتے ہیں اور خطے کے امن، استحکام، شہریوں اور غیر ملکی باشندوں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

کویت نے مزید کہا کہ ایسے اقدامات بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے منافی ہیں۔ حکومت نے خبردار کیا کہ کشیدگی میں مزید اضافہ سفارتی کوششوں کو متاثر کر سکتا ہے اور خطے میں بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔

خلیجی ممالک کے ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تشویش میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ مختلف ممالک صورتحال کے حل کے لیے سفارتی ذرائع اور کشیدگی میں کمی پر زور دے رہے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close