سعودی عرب کا نیا ویزا پیکیج نظام، ٹکٹ، ہوٹل اور ویزا ایک ہی پیکیج میں دستیاب
سعودی عرب کا سفر کرنے کے خواہش مند افراد کے لیے ایک نیا سفری نظام متعارف کرایا گیا ہے، جس کے تحت مسافروں کو اب ویزا کے لیے الگ مراحل سے گزرنے کے بجائے ٹکٹ، ہوٹل اور ویزا ایک ہی پیکیج میں حاصل ہو سکے گا۔
سعودی وزارتِ سیاحت کے مطابق اس نئے نظام کو “ویزا پیکیج” کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد سیاحوں کے لیے سفر کے عمل کو آسان، تیز اور سہل بنانا ہے۔
وزارتِ سیاحت نے بتایا کہ اس منصوبے کے ابتدائی مرحلے میں چھ ممالک کے شہریوں کو شامل کیا گیا ہے، جن میں بھارت، اردن، مصر، بنگلہ دیش، انڈونیشیا اور میکسیکو شامل ہیں۔
نئے نظام کے تحت ان ممالک کے مسافروں کو ویزا کے لیے سفارت خانے جانے یا علیحدہ درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ منظور شدہ ٹریول ایجنسی سے مکمل پیکیج بک کروانے کے بعد ویزا کا عمل خودکار طریقے سے مکمل کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق پیکیج کی بکنگ مکمل ہونے کے تقریباً 48 گھنٹوں کے اندر ویزا جاری کر دیا جائے گا، جبکہ ویزا، انشورنس اور دیگر سفری دستاویزات مسافر کو ای میل کے ذریعے فراہم کی جائیں گی۔ اس منصوبے کے لیے ابتدائی طور پر دو ٹریول ایجنسیوں ریزرول اور المسافر کو اجازت دی گئی ہے۔
وزارتِ سیاحت کے مطابق یہ ایک سیاحتی ویزا ہوگا، جس کے ذریعے مسافر ایک مرتبہ سعودی عرب میں داخل ہو سکے گا۔ ویزے کی مدت تین ماہ ہوگی، جبکہ قیام کی اجازت کم از کم دو دن اور زیادہ سے زیادہ 88 دن تک ہوگی۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ اگر مسافر اپنا سفر منسوخ کرتا ہے تو ویزا بھی خودکار طور پر منسوخ ہو جائے گا، جبکہ ویزا کو الگ سے منسوخ کرنے کی سہولت دستیاب نہیں ہوگی۔
اس پیکیج کے حصول کے لیے چند شرائط بھی مقرر کی گئی ہیں۔ مسافر کے پاس آمد و رفت کی تصدیق شدہ ٹکٹ ہونا ضروری ہوگی، جبکہ ہوٹل حکومت سے منظور شدہ اور کم از کم چار ستارہ معیار کا ہونا چاہیے۔
پیکیج کی ابتدائی قیمت فی بالغ مسافر کے لیے پہلے دو دنوں کے لیے 4 ہزار سعودی ریال مقرر کی گئی ہے، جبکہ اضافی قیام کی صورت میں ہر دن کے لیے مزید 1 ہزار سعودی ریال ادا کرنا ہوں گے۔ مسافر اپنی ضرورت کے مطابق تفریحی سرگرمیوں اور سیاحتی مقامات کے ٹکٹس بھی پیکیج میں شامل کروا سکتے ہیں۔
وزارتِ سیاحت نے واضح کیا ہے کہ اس پیکیج میں عمرہ یا مکہ اور مدینہ کے لیے خصوصی انتظامات شامل نہیں ہوں گے، تاہم ویزا حاصل کرنے کے بعد مسافر سعودی عرب پہنچ کر مکہ، مدینہ سمیت ملک کے دیگر شہروں کا سفر کر سکے گا۔
اگر پرواز یا ہوٹل کی جانب سے سروس منسوخ کی جاتی ہے تو رقم کی واپسی یا بکنگ میں تبدیلی متعلقہ ٹریول ایجنسی کی پالیسی کے مطابق کی جائے گی۔
سعودی حکام کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اس پروگرام میں مزید ممالک کو شامل کیا جائے گا تاکہ دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کے لیے سعودی عرب کا سفر مزید آسان بنایا جا سکے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






