روایتی سرنجز پر مکمل پابندی کا بڑا فیصلہ

وفاقی حکومت نے روایتی (مینول) سرنجز پر مکمل پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے اس حوالے سے تمام قانونی اور انتظامی امور مکمل کر لیے ہیں، جس کے تحت ایک سے 10 سی سی تک کی تمام روایتی سرنجز کی درآمد، تیاری، فروخت اور استعمال پر پابندی عائد کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مکمل پابندی کے نفاذ کے لیے یکم جولائی کو جاری کیے گئے حکم نامے میں بھی ترمیم کی جائے گی، جس کے تحت اس سے قبل صرف 3 اور 10 سی سی مینول سرنجز پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

حکام کے مطابق روایتی سرنجز پر مکمل پابندی کا فیصلہ متعلقہ فریقین سے طویل مشاورت کے بعد کیا گیا، تاہم تمام اسٹیک ہولڈرز میں مکمل اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا۔

ذرائع نے بتایا کہ مخصوص اسپتالوں کو مینول سرنجز کے استعمال کے لیے دی گئی رعایت بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد سرکاری اور نجی اسپتالوں میں 10 سی سی مینول سرنجز کے استعمال کی اجازت نہیں ہوگی۔ تاہم انسولین سرنجز اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔

حکام کے مطابق یہ اقدام سرنجز کے دوبارہ استعمال سے پھیلنے والی بیماریوں کی روک تھام کے لیے کیا جا رہا ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ ڈریپ کے میڈیکل ڈیوائسز بورڈ نے بھی مینول سرنجز پر پابندی کی منظوری دے دی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close