پانی کو سیاسی دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے: وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پانی خطے کی زندگی اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کی ضمانت ہے، اسے سیاسی مقاصد یا دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ناقابل قبول ہے۔
کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایس سی او عالمی امن و استحکام کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم ہے، جبکہ تنظیم کے قیام کو 25 سال مکمل ہونا ایک اہم سنگ میل ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایس سی او کی ترقیاتی حکمت عملی 2035 پر مؤثر عملدرآمد ضروری ہے اور ایس سی او ترقیاتی بینک کا قیام ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔ پاکستان اپنی ایس سی او چیئرمین شپ کے دوران توانائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کو ترجیح دے گا، جبکہ صحت، ثقافت اور کھیل بھی ترجیحات میں شامل ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ پاکستان تنازعات کے پرامن حل اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری پر یقین رکھتا ہے اور علاقائی بحرانوں کے دوران بھی امن کے لیے مؤثر کردار ادا کرتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے حال ہی میں مکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے ہیں، تاہم یہ معاہدہ کسی ملک یا ریاست کے خلاف نہیں ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ ایس سی او خطے میں تین ارب سے زائد افراد کی نمائندگی کرتی ہے، اس لیے علاقائی رابطہ کاری اب انتخاب نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک ضرورت بن چکی ہے۔ پاکستان علاقائی ریل، سڑک اور توانائی کے منصوبوں کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔
غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہاں جاری انسانی المیہ ناقابل تصور مصائب کا باعث بن رہا ہے۔ عالمی برادری کو فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کا احترام کرنا چاہیے۔
دہشت گردی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اس جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دی ہیں، جبکہ ملک کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا معاشی نقصان بھی برداشت کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کا خواہاں ہے، تاہم افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جا سکتا۔
وزیراعظم نے سی پیک کو علاقائی معیشتوں کو بحرِ عرب سے جوڑنے کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان علاقائی تجارت اور رابطہ کاری کے فروغ کے لیے مختلف منصوبوں پر کام جاری رکھے گا۔
پاکستان نے ایس سی او کی چیئرمین شپ سنبھال لی
قبل ازیں بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہانِ مملکت کونسل کے اجلاس کے اعلامیے پر دستخط کی تقریب ہوئی۔
اعلامیے کے مطابق پاکستان 2026-27 کے لیے ایس سی او سربراہانِ مملکت کونسل کی صدارت سنبھالے گا۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کے اعلامیے پر دستخط کیے۔






