ایران کے 90 فیصد سے زائد میزائل بدستور محفوظ اور موجود ہونے کا انکشاف

ایران کے سپریم لیڈر کے عسکری مشیر جنرل محمد رضا نقدی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے 90 فیصد سے زائد میزائل اب بھی محفوظ اور موجود ہیں۔

جنرل محمد رضا نقدی نے ایران کی میزائل صلاحیت میں کمی سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جو میزائل کم ہوئے، وہ مختلف کارروائیوں کے دوران استعمال کیے گئے، تاہم ان کی جگہ نئے میزائل تیار یا حاصل کر لیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران کا میزائل سازی کا نظام خودکفیل ہے اور طویل عرصے تک اپنی صلاحیت برقرار رکھنے کی استعداد رکھتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کی مقامی دفاعی تنصیبات مسلسل میزائل تیار کر رہی ہیں، جبکہ پیداوار کی رفتار آپریشنل استعمال کے مقابلے میں ذخائر کو برقرار رکھنے میں مدد دے رہی ہے۔

جنرل نقدی نے تسلیم کیا کہ ایران کو ایک کمزوری کا سامنا رہا، کیونکہ اس کی میزائل فیکٹریاں سطحِ زمین پر قائم تھیں اور ان کی نشاندہی کی جا چکی تھی۔ تاہم، ان کے بقول ملک کے اندر مکمل اتحاد موجود ہے اور پاسدارانِ انقلاب اور حکومت کے درمیان تعلقات بھی بہترین سطح پر ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اب تک روایتی جنگ لڑ رہا ہے، تاہم اگر صورتحال غیر روایتی جنگ کی طرف بڑھی تو اس کے اثرات وال اسٹریٹ یا مین ہٹن تک بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔

جنرل نقدی کے مطابق موجودہ عسکری کمانڈروں کی اکثریت جارحانہ طرزِ فکر رکھتی ہے اور اسی حکمت عملی کو ترجیح دیتی ہے۔

دوسری جانب امریکی میڈیا کی حالیہ رپورٹس میں ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے سے متعلق وائٹ ہاؤس کے دعووں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق امریکی فوجی کارروائیاں ایران کے زیرِ زمین میزائل نیٹ ورکس اور ڈرون لانچنگ پلیٹ فارمز کو مکمل طور پر غیر مؤثر بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایرانی حملوں کو روکنے کی کوششوں کے باعث امریکی فضائی دفاعی نظام کے اہم ذخائر پر دباؤ بڑھا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق پیٹریاٹ اور تھاڈ جیسے جدید انٹرسیپٹرز کا استعمال ان کی دوبارہ تیاری کی رفتار سے زیادہ تیزی سے ہوا ہے۔