سعودی عرب میں ملازمت کرنے والے پاکستانیوں کے لیے اہم خبر

سعودی لیبر قوانین کے تحت ملازمت کا معاہدہ ختم ہونے پر کفیل کے لیے ملازم کو تجربہ سرٹیفکیٹ اور اصل دستاویزات واپس کرنا لازم قرار دیا گیا ہے۔

بیورو آف ایمیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ اسلام آباد نے سعودی عرب میں مقیم پاکستانی ملازمین اور ان کے کفیلوں کی قانونی ذمہ داریوں سے متعلق اہم معلومات جاری کی ہیں۔

قوانین کے مطابق ملازمت کی مدت مکمل ہونے پر آجر یا کفیل ملازم کو تجربہ سرٹیفکیٹ فراہم کرنے کا پابند ہے۔ سرٹیفکیٹ میں ملازمت کی نوعیت، مدت اور تنخواہ سے متعلق معلومات واضح طور پر درج ہونی چاہئیں۔

قانون کے تحت سرٹیفکیٹ میں ایسے الفاظ یا ریمارکس شامل نہیں کیے جا سکتے جو ملازم کے لیے نقصان دہ ہوں یا اس کے مستقبل کے روزگار پر منفی اثر ڈالیں۔

اسی طرح آجر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملازم کا پاسپورٹ اور دیگر اصل دستاویزات ملازمت ختم ہونے پر واپس کرے۔ اس کے علاوہ ملازم کو وطن واپسی کا ٹکٹ فراہم کرنا بھی آجر کی ذمہ داری ہے، تاہم اگر ملازم غیر قانونی طور پر سعودی عرب سے روانہ ہونے کا فیصلہ کرے تو یہ شرط لاگو نہیں ہوگی۔

اگر دورانِ ملازمت کسی ملازم کا انتقال ہو جائے تو آجر پر لازم ہے کہ میت کو وطن واپس پہنچانے کے تمام اخراجات برداشت کرے۔ تاہم اگر ورثاء کی خواہش ہو تو ان کی رضامندی کے مطابق سعودی عرب میں ہی تدفین کے انتظامات کیے جا سکتے ہیں۔