ایران سے منسلک ایک گروپ کی جانب سے امریکی بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی گروپ نے فوجی نقشے اور سیٹلائٹ تصاویر جمع کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی بحری جہازوں کے مواصلاتی نظام میں ممکنہ کمزوریوں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی۔ اس مقصد کے لیے مصنوعی ذہانت کے جدید ماڈل ’کلاڈ‘ سے مدد حاصل کی جا رہی تھی۔
اے آئی کمپنی اینتھروپک کے مطابق کمپنی نے اس سرگرمی کا سراغ لگانے کے بعد متعلقہ کارروائی کرتے ہوئے اسے روک دیا۔ کمپنی نے اس حوالے سے ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے، جس میں مصنوعی ذہانت کے ممکنہ غلط استعمال سے متعلق مختلف خطرات کی نشاندہی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں میزائلوں کی تیاری، نفسیاتی جنگ اور مخالفین کی جاسوسی سمیت دیگر ممکنہ خطرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں میں بھی مصنوعی ذہانت کے استعمال سے متعلق اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے ایران کے خلاف کارروائیوں کے دوران اینتھروپک کے تیار کردہ ’کلاڈ‘ اے آئی ٹول کو مختلف فوجی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔






