فون تبدیل کرتے وقت ڈیٹا اور پرائیویسی کیسے محفوظ رکھی جائے؟

پرانا موبائل فون تبدیل کرتے وقت ذاتی ڈیٹا کو محفوظ طریقے سے نئے فون میں منتقل کرنا انتہائی ضروری ہے، کیونکہ معمولی سی غفلت بھی ڈیٹا چوری، بلیک میلنگ یا دیگر مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔

سائبر سیکیورٹی ایکسپرٹ آصف اقبال نے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کے تحفظ کے حوالے سے صارفین کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ ان کے مطابق غیر معتبر دکانوں سے ڈیٹا ٹرانسفر کرانے یا مشکوک ایپس انسٹال کرنے سے تصاویر، ویڈیوز، رابطہ نمبرز اور دیگر حساس معلومات تک غیر مجاز رسائی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

آصف اقبال کا کہنا تھا کہ موبائل فون ہماری نجی زندگی سے متعلق اہم معلومات کا ذخیرہ ہوتے ہیں، جن میں ذاتی تصاویر، ویڈیوز، پیغامات، رابطہ نمبرز اور دیگر حساس ڈیٹا شامل ہے۔ فون تبدیل کرنے، مرمت کرانے یا ایک ڈیوائس سے دوسری ڈیوائس میں ڈیٹا منتقل کرتے وقت معمولی غفلت بھی سنگین نتائج کا سبب بن سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض صورتوں میں صارفین کا ذاتی ڈیٹا غیر مجاز طور پر کاپی یا منتقل کیے جانے کا خدشہ ہوتا ہے، جسے بعد میں فروخت یا بلیک میلنگ کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ صارفین کو چاہیے کہ فون کی مرمت یا ڈیٹا ٹرانسفر ممکن ہو تو اپنی موجودگی میں کروائیں اور کسی غیر متعلقہ شخص کو حساس معلومات تک غیر ضروری رسائی نہ دیں۔

ماہر نے مزید کہا کہ موبائل فون پر مضبوط پاس ورڈ، پن یا دیگر سیکیورٹی فیچرز لازمی فعال رکھنے چاہئیں تاکہ فون گم یا چوری ہونے کی صورت میں ذاتی معلومات تک آسانی سے رسائی حاصل نہ کی جا سکے۔

موبائل ایپس کے حوالے سے بھی احتیاط ضروری ہے۔ آصف اقبال نے مشورہ دیا کہ کسی بھی غیر معروف ایپ کو انسٹال کرنے سے پہلے اس کے ڈویلپر، ریٹنگ، صارفین کے جائزوں اور مانگی جانے والی اجازتوں کا جائزہ لیا جائے۔

انہوں نے بتایا کہ بعض ایپس انسٹالیشن کے دوران گیلری، مائیکروفون، کانٹیکٹس اور لوکیشن سمیت مختلف معلومات تک رسائی کی اجازت طلب کرتی ہیں۔ صارفین کو صرف ضرورت کے مطابق اجازت دینی چاہیے اور جہاں ممکن ہو محدود رسائی کے آپشن کا انتخاب کرنا چاہیے۔

ماہرین کے مطابق خاص طور پر حساس تصاویر، ویڈیوز یا نجی معلومات رکھنے والے صارفین کو فون سیکیورٹی کے حوالے سے زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے، جبکہ غیر ضروری ایپس اور ان کی اضافی اجازتوں کو بند رکھنا بہتر ہے۔