*گوگل میپس کی نئی سیٹلائٹ تصاویر نے غزہ کی ہولناک تباہی بے نقاب کر دی*
گوگل میپس کی نئی سیٹلائٹ تصاویر نے غزہ، خان یونس اور رفح میں اسرائیلی بمباری سے ہونے والی تباہی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا ہے۔
تصاویر میں جہاں کبھی آباد گھر اور گلیاں تھیں، اب ملبے کے ڈھیر اور زمین بوس عمارتیں نظر آ رہی ہیں۔ گلیاں اور بلاکس سرمئی ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں، جہاں عمارتوں کی شناخت بھی مشکل ہے۔ نقشے پر اسکولوں، مساجد، پارکوں اور ریسٹورنٹس کے مارکرز تو موجود ہیں لیکن اردگرد کا علاقہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
وسطی غزہ کے صحافی ابوبکر عابد نے ان تصاویر کو “غیر حقیقی اور روح فرسا” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بچپن کے تمام مقامات اب ملبے کی لکیروں میں بدل چکے ہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر میں ساحلی پٹی پر خیموں کی طویل قطاریں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
اقوام متحدہ کے مطابق اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں 74 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 19 لاکھ بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ کے دو تہائی گھر تباہ ہو چکے ہیں۔






