پاکستان میں سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز کے لیے ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے۔
وفاقی وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ نے بتایا کہ مشاورت مکمل کر لی گئی ہے اور فریم ورک کو جلد حتمی شکل دے دی جائے گی، اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں کو سازگار ماحول فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی تعلیم، صحت، معاشی ترقی اور قومی سلامتی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ ملک میں موبائل انٹرنیٹ کے استعمال میں صنفی فرق 38 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہ گیا ہے، گزشتہ ڈھائی سال میں 3 نئی سب میرین کیبلز لینڈ کی گئی ہیں۔
وزیر نے بتایا کہ یونیورسل سروس فنڈ کے تحت 17 ہزار کلومیٹر سے زائد آپٹیکل فائبر بچھائی گئی، فائبر براڈبینڈ ہوم پاسز 30 لاکھ سے بڑھ کر 50 لاکھ سے تجاوز کر گئے، جبکہ ٹاورز کی فائبرائزیشن 15 فیصد سے بڑھ کر 19 فیصد ہو گئی ہے جسے 60 فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے۔






