وفاقی آئینی عدالت نے پنجاب پبلک سروس کمیشن کے تحت کامیاب ہونے والے امیدواروں کا اسٹیٹس بحال کر دیا۔
چیف جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی، آئینی عدالت نے امیدواروں کی بحالی کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے پنجاب پبلک سروس کمیشن کا موقف مسترد کر دیا۔
وکیل درخواست گزار کے مطابق ہمارے موکلان پبلک سروس کمیشن کا امتحان پاس کر کے اپنے محکموں میں ملازمت کر رہے تھے، ہمارے موکلان محکمہ پنجاب فنانس سے 4 ماہ کی تنخواہ بھی لے چکے تھے، پبلک سروس کمیشن نے پیپر لیک کی سورس رپورٹ پر امیدواروں کو تعینات کرنے کی سفارشات واپس لے لیں۔
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ لیک پیپر پبلک سروس کمیشن کی سفارشات کے بعد ریکور ہوئے، ریکور پیپر امیدواروں کے امتحان کلیئر کرنے کے بعد سامنے آئے، پیپر لیک کے الزام پر پنجاب پبلک سروس کمیشن کے کتنے افسران کے خلاف کارروائی کی گئی۔
وکیل پنجاب پبلک سروس کمیشن نے کہا کہ پیپر لیک معاملے پر چار افسران کو برطرف کیا گیا۔
جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ امیدواروں کو ہٹانے سے قبل کسی کو شوکاز نوٹس جاری نہیں کیا گیا، امیدواروں کو ہٹانے سے قبل سنا بھی نہیں گیا۔






