خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں کے ساتھ جھڑپوں کے واقعات میں پولیس نے تقریباً 50 افراد کو گرفتار کر کے انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت چار مقدمات بھی درج کر لیے ہیں۔
خیبر پختونخوا کے گورنر کی مشیر برائے اطلاعات ثمر ہارون بلور کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے واقعات پر محتاط اور متناسب انداز میں ردعمل دیا۔
وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا، وفاقی کابینہ نے ایمرجنسی اور گورنر راج کی منظوری دی تھی جس کی حتمی منظوری صدر مملکت آصف زرداری نے وزیراعظم ہاؤس کی جانب سے بھیجی گئی سمری پر دستخط کر کے دی۔
خیبر میں موجود نمائندے کے مطابق ممکنہ احتجاج کے پیش نظر پولیس نے پشاور کے ضلع خیبر کے باڑہ بازار کے داخلی و خارجی راستے سیل کرتے ہوئے بازار کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، بازار میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ پشاور پولیس کے تازہ دم دستے بھی باڑہ پہنچ گئے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال پر کڑی نظر ہے، کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے، کیپٹل سٹی پولیس پشاور کے ترجمان کا کہنا ہے کہ باڑہ میں حالات مکمل کنٹرول میں ہیں، عوام افواہیں پھیلانے سے گریز کریں، قانون ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
ثمر بلور نے پولیس کی جانب سے براہ راست فائرنگ کے الزامات کو بے بنیاد اور لغو قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا، ان کا کہنا تھا کہ یہ الزامات سوشل میڈیا کے گمنام اکاؤنٹس کے ذریعے پھیلائے گئے جن پر مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ویڈیوز شیئر کی گئیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا کہ جھڑپوں کے دوران پانچ افراد زخمی ہوئے، سب سے سنگین واقعہ خیبر کے ضلع باڑہ میں پیش آیا۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات اکرام کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ نامعلوم افراد نے باڑہ میں نادرا کے ایک مرکز کو آگ لگا کر قریبی دفاتر پر دھاوا بول دیا، اس واقعے کے حوالے سے ثمر بلور نے کہا کہ واقعے کی ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے ذریعے کیا جائے گا جس میں ویڈیو فوٹیج کا جائزہ لینے اور عینی شاہدین کے بیانات قلمبند کرنے سمیت دیگر شواہد جمع کیے جائیں گے۔
دوسری جانب عمران خان کے معاون اور پی ٹی آئی کے ترجمان زلفی بخاری نے ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے انہیں باڑہ بازار میں ہونے والے تشدد سے متعلق قرار دیا، انہوں نے ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو کو قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بدامنی کے واقعات مزید علاقوں تک پھیل سکتے ہیں۔






