لاہور:
پنجاب یونیورسٹی کتاب میلے کے تحت الرازی ہال میں منعقدہ لٹریری فیسٹیول 2026ء میں ڈاکٹر شاہد صدیقی کی تصنیف ’عرفان بھائی اور میں‘ کی تقریب رونمائی کا انعقاد کیا گیا جس میں سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان، وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی،پرووائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمود سلیم، سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی، سہیل وڑائچ، مصنف ڈاکٹر شاہد صدیقی، چیئرپرسن شعبہ فلم اینڈ براڈ کاسٹنگ پروفیسر ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر، فیکلٹی ممبران اور طلبا و طالبات نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں ملک محمد احمد خان نے کہا کہ دانشور، کالم نگار اور سینیٹر عرفان صدیقی دلیل کی بنیاد پر بات کرنے اور اصولی مؤقف پر قائم رہنے والی شخصیت تھے۔ انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی کی آئینی بالادستی، جمہوری اختیار اور قومی سلامتی جیسے اہم معاملات پر ان کی رائے اور مشاورت قابلِ قدر رہی۔انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی کی تحریروں، پارلیمانی تقاریر اور ٹی وی پروگراموں میں پیچیدہ قومی معاملات پر پیش کیے جانے والے مؤقف کو انہوں نے ہمیشہ توجہ سے سنا۔ عرفان صدیقی کے کالموں سے حالات کے ان پہلوؤں کو سمجھنے میں مدد ملتی رہی جو بسا اوقات پوشیدہ ہوتے ہیں۔
انہوں نے پاک افغان پالیسی اور قومی سلامتی کے معاملات میں عرفان صدیقی کی مشاورت اور کردار کو بھی سراہا۔
وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ ادبی سرگرمیوں کا فروغ نوجوانوں کی کردار سازی کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں وائس چانسلر بننے کے بعد عرفان صدیقی نے بڑی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے کہا کہ عرفان صدیقی اپنی شاندار تصانیف کے باعث قارئین کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
سینئر صحافیوں اور کالم نگاروں سہیل وڑائچ، مجیب الرحمان شامی، ڈاکٹر شاہد صدیقی اور ڈاکٹر لبنیٰ ظہیر نے عرفان صدیقی کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے کہا کہ عرفان صدیقی کے جانے سے ادبی میدان میں پیدا ہونے والا خلاء پر ہونے میں وقت لگے گا۔ مقررین نے ڈاکٹر شاہد صدیقی کی کاوش کوسراہا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتاب دو حصوں پر مشتمل ہے جس کا پہلا حصہ شاہد صدیقی کی عرفان صدیقی کی یادوں اور ارتقائی سفر کا احوال بیا ن کرتا ہے۔ جبکہ دوسرا حصہ عرفان صدیقی کی تحریروں کے انتخاب پر ہے۔ مقررین نے کہا کہ یہ کتاب مختلف تعلیمی اداروں کی لائبریریوں میں ہونی چاہیے تاکہ نوجوان نسل کو احساس ہوسکے کہ وسائل کی کمی کے باوجود محنت اور جدوجہد سے مقام حاصل کیا جاسکتا ہے۔






