اوپن اے آئی اور ایلون مسک کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا

مصنوعی ذہانت کے شعبے میں جاری مسابقت کے دوران اوپن اے آئی نے کرسر کو مزید اپنے اے آئی ماڈلز فراہم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کرسر ایک معروف کوڈنگ ٹول ہے جو اسپیس ایکس سے وابستہ کمپنی کی ملکیت ہے۔

اوپن اے آئی کے مطابق یہ فیصلہ اس خدشے کے پیش نظر کیا گیا ہے کہ اسپیس ایکس اس کی ٹیکنالوجی سے متعلق طے شدہ شرائط کی مکمل پاسداری نہیں کرے گی۔ کمپنی نے کہا کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر اسے ایلون مسک کی زیرِ انتظام کمپنیوں کے ساتھ معاہدوں پر مکمل اعتماد نہیں ہے۔

یہ فیصلہ اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین اور ایلون مسک کے درمیان کئی برس سے جاری کشیدگی میں ایک اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ دونوں کے درمیان اختلافات رواں سال اس وقت مزید شدت اختیار کر گئے جب مسک نے اوپن اے آئی کے خلاف بھاری مالی ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا۔

کرسر کو اے آئی ماڈلز کی فراہمی روکنے کا اقدام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات اب قانونی تنازع سے آگے بڑھ کر اے آئی ٹیکنالوجی تک رسائی اور کاروباری تعلقات تک بھی پھیل چکے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اوپن اے آئی اور ایلون مسک دونوں مصنوعی ذہانت کے شعبے میں اپنی پوزیشن مضبوط بنانے کے لیے تیزی سے اقدامات کر رہے ہیں۔