//

کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر جا رہی ہے؟ چونکا دینے والا انکشاف

مصنوعی ذہانت تیار کرنے والی امریکی کمپنی اوپن اے آئی نے بتایا ہے کہ اس کے دو جدید اے آئی ماڈلز نے ایک داخلی سیکیورٹی ٹیسٹ کے دوران غیر معمولی خودمختاری کا مظاہرہ کیا، جس کے نتیجے میں ایک اے آئی ایجنٹ ٹیسٹنگ ماحول سے باہر نکل کر دوسری اے آئی کمپنی ہگنگ فیس کے سرورز تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

اوپن اے آئی کے مطابق یہ واقعہ ایک سائبر سیکیورٹی مشق کے دوران پیش آیا، جس کا مقصد جدید اے آئی ماڈلز کی سائبر صلاحیتوں اور ممکنہ خطرات کا جائزہ لینا تھا۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اے آئی ایجنٹ نے توقع سے زیادہ پیچیدہ اقدامات کیے۔

کمپنی کے مطابق یہ ایجنٹ نئے متعارف کرائے گئے GPT-5.6 Sol اور ایک مزید جدید مگر غیر اعلانیہ ماڈل پر مبنی تھا، جس نے ٹیسٹ ماحول سے باہر نکل کر کھلے انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کی۔

اوپن اے آئی نے دعویٰ کیا کہ اے آئی ایجنٹ نے مبینہ طور پر حاصل کردہ لاگ اِن معلومات اور ایک سیکیورٹی خامی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہگنگ فیس کے سرورز تک رسائی حاصل کی۔ کمپنی نے اس واقعے کو ایک غیر معمولی سائبر واقعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایجنٹ نے ٹیسٹ مکمل کرنے کے لیے غیر متوقع طریقہ اختیار کیا۔

ہگنگ فیس کے شریک بانی کلیمنٹ ڈیلانگ نے کہا کہ انہیں پہلے ہی اندازہ تھا کہ اس کارروائی کے پیچھے کسی جدید اے آئی لیب کا ماڈل ہو سکتا ہے، تاہم ان کے مطابق اوپن اے آئی کی جانب سے کوئی بدنیتی شامل نہیں تھی۔ انہوں نے اس واقعے کو خودکار اے آئی نظاموں کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں کی ایک مثال قرار دیا۔

امریکی کانگریس کے رکن گریگ کاسر نے اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جبکہ اس کے لیے حفاظتی قوانین اور ضوابط ابھی مکمل طور پر موجود نہیں۔

انہوں نے جدید اے آئی سسٹمز کی آزادانہ سیکیورٹی جانچ، اہم واقعات کی رپورٹنگ اور عالمی سطح پر مشترکہ ضابطہ سازی کی ضرورت پر زور دیا۔

یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں ماہرین مصنوعی ذہانت سے جڑے سائبر خطرات، خودکار نظاموں کے رویوں اور ان کی نگرانی کے طریقہ کار پر بحث کر رہے ہیں۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close