ٹیم میں اچانک تبدیلیوں کے پیچھے پی سی بی کا اصل مقصد کیا ؟ بڑا دعویٰ سامنے آ گیا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق اسٹار اسپنر سعید اجمل نے قومی ٹیم میں مسلسل تبدیلیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کرکٹ گزشتہ 10 سال پیچھے چلی گئی ہے اور مستقبل کے لیے مؤثر منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔

انگلینڈ کے خلاف تیسرے اور آخری ٹیسٹ سے قبل قومی ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی گئیں۔ سات کھلاڑیوں کو وطن واپس بھیج دیا گیا جبکہ کوچنگ اسٹاف میں بھی تبدیلیاں کی گئیں۔ سعید اجمل کے مطابق بار بار ہونے والی تبدیلیوں سے کھلاڑیوں کا اعتماد متاثر ہورہا ہے اور انہیں اپنی صلاحیتیں ثابت کرنے کے لیے مستقل مواقع نہیں مل رہے۔

سعید اجمل نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے کھلاڑیوں کو سب سے زیادہ مایوس کیا ہے۔ کسی بھی کھلاڑی کو ٹیم میں اپنی جگہ بنانے کے لیے مناسب وقت نہیں دیا جارہا، حتیٰ کہ اچھی کارکردگی دکھانے والے بعض کھلاڑیوں کو بھی ٹیم سے باہر کردیا گیا۔

سابق اسپنر نے عاقب جاوید اور مائیک ہیسن کی ذمہ داریوں پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ دونوں ایک ٹیم کی حیثیت سے معاملات کو کنٹرول کررہے ہیں اور موجودہ صورتحال کے ذمہ دار ہیں۔ ان کے مطابق پورا معاملہ انا کا بن چکا ہے۔

سعید اجمل نے کہا کہ اعلیٰ سطح کی کرکٹ میں کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیت ثابت کرنے کے لیے مسلسل مواقع دینا ضروری ہے، لیکن پاکستان میں ہر سیریز کے بعد بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جارہی ہیں، جس سے کھلاڑی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہر میچ اہم ہوتا ہے اور اگر کوئی کھلاڑی توقع کے مطابق کارکردگی نہ دکھا سکے تو اس کی جگہ دوسرے کھلاڑی کو موقع دینا سمجھ میں آتا ہے، تاہم موجودہ صورتحال میں صرف ناکام کھلاڑیوں کی تبدیلی نہیں بلکہ ٹیم میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کی جارہی ہے۔

سلمان آغا کی مثال دیتے ہوئے سعید اجمل نے کہا کہ وہ ایک اچھے کھلاڑی ہیں، تاہم بعض وجوہات کی بنا پر وہ مطلوبہ کارکردگی نہیں دکھا سکے۔ ان سے اس حوالے سے بات بھی کی گئی تھی۔

سعید اجمل کے مطابق پاکستان کرکٹ میں مستقبل کی منصوبہ بندی اور کھلاڑیوں کو مستقل مواقع دینے کی ضرورت ہے، بصورت دیگر مسلسل تبدیلیاں ٹیم کی کارکردگی اور کھلاڑیوں کے اعتماد کو مزید متاثر کرسکتی ہیں۔