پاکستانی کرکٹ کی تاریخ عروج و زوال کی کئی داستانوں سے بھری پڑی ہے، مگر ایک حقیقت ہمیشہ نمایاں رہی کہ عالمی اعزاز دلانے والے کئی کامیاب کپتان جلد ہی قیادت سے محروم ہو گئے۔ 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے والے عمران خان، 2009 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جتوانے والے یونس خان اور 2017 کی چیمپئنز ٹرافی کے فاتح سرفراز احمد دوبارہ قومی ٹیم کی قیادت نہ کر سکے۔
اس روایت کے برعکس بابر اعظم نے کوئی آئی سی سی ٹائٹل جیتے بغیر تیسری مرتبہ قومی ٹیم کی کپتانی سنبھال لی، جس نے پاکستان کرکٹ کے نظام اور قیادت کی منصوبہ بندی پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دورہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے لیے ٹیسٹ اسکواڈ کے اعلان کے موقع پر سلیکشن کمیٹی کے رکن اور ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے شان مسعود کی قیادت میں 12 ٹیسٹ شکستوں کو کپتانی کی تبدیلی کی بنیادی وجہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کپتان صرف میدان میں موجود نہیں ہوتا بلکہ نتائج، حکمت عملی، اوور ریٹ، ڈی آر ایس اور ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ماضی میں بابر اعظم کی قیادت پر تنقید کرنے والے عاقب جاوید اب انہیں دوبارہ کپتانی کے لیے بہترین انتخاب قرار دے رہے ہیں، جس سے یہ سوال بھی جنم لیتا ہے کہ گزشتہ برسوں میں متبادل قائدین تیار کیوں نہیں کیے گئے۔
بابر اعظم نے بطور ٹیسٹ کپتان 20 میچز میں قیادت کی، جن میں سے 10 میں کامیابی حاصل کی اور ان کی کامیابی کا تناسب 50 فیصد رہا۔ تاہم 2023 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں قومی ٹیم کی ناکامی کے بعد اس وقت کے چیئرمین ذکا اشرف نے انہیں صرف وائٹ بال کپتانی سے ہٹانے اور ٹیسٹ قیادت برقرار رکھنے کی تجویز دی، جسے بابر اعظم نے قبول نہیں کیا۔
بعد ازاں چیئرمین کی تبدیلی کے ساتھ بابر اعظم ایک بار پھر ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے کپتان مقرر ہوئے، لیکن ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں امریکا کے ہاتھوں شکست نے ان کی قائدانہ صلاحیتوں پر بھی سوالات اٹھا دیے۔
شان مسعود کو خراب نتائج کی بنیاد پر ہٹا دیا گیا، مگر یہ بحث بھی زور پکڑ گئی ہے کہ کیا ہر ناکامی کا ذمہ دار صرف کپتان ہوتا ہے؟ بابر اعظم خود بھی ماضی میں کپتانی کے دباؤ کے باعث فارم سے محروم رہے تھے۔ اگر ہر ناکامی کے بعد صرف کپتان تبدیل کیا جائے اور سلیکشن، کوچنگ اور انتظامی نظام احتساب سے محفوظ رہے تو بہتری کیسے آئے گی؟
دنیا کی کامیاب ٹیموں نے قیادت کے معاملے میں مختلف حکمت عملی اپنائی ہے۔ جنوبی افریقا نے صرف 22 برس کی عمر میں گریم اسمتھ کو کپتان بنایا، حالانکہ ٹیم میں کئی سینئر عالمی معیار کے کھلاڑی موجود تھے۔ مستقل اعتماد اور واضح حکمت عملی کے باعث وہ جنوبی افریقا کی تاریخ کے کامیاب ترین ٹیسٹ کپتان بنے۔
اس کے برعکس پاکستان میں شان مسعود کو قیادت تو دی گئی، مگر انہیں وہ اعتماد، استحکام اور ماحول فراہم نہ کیا جا سکا جو کسی نئے کپتان کی کامیابی کے لیے ضروری ہوتا ہے، جس کا نتیجہ مسلسل خراب کارکردگی کی صورت میں سامنے آیا۔
بابر اعظم کی ایک بار پھر کپتانی دراصل اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کرکٹ صرف کھلاڑیوں ہی نہیں بلکہ قیادت کے بحران سے بھی دوچار ہے۔ جب بار بار ایک ہی چہرہ واحد متبادل بن جائے تو یہ کسی ایک فرد نہیں بلکہ پورے نظام کی ناکامی تصور کی جاتی ہے۔
کامیاب کرکٹ مضبوط نظام، واضح پالیسی اور مستقل قیادت سے جنم لیتی ہے۔ اگر ہر شکست کے بعد صرف کپتان تبدیل کیا جاتا رہا اور نظام اپنی خامیوں کا احتساب نہ کر سکا تو چہرے بدلنے سے نتائج تبدیل نہیں ہوں گے۔ پاکستان کرکٹ کو نئے کپتان سے زیادہ ایک مضبوط وژن، مستقل مزاج پالیسی اور ایسے انتظامی ڈھانچے کی ضرورت ہے جو قیادت تیار بھی کرے اور اس پر اعتماد بھی کرے۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






