ایران نے پاکستان کو بھیجے گئے ایک پیغام میں مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
سعودی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں۔ ایران نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکام کو آگاہ کیا ہے کہ وہ مذاکرات سے دستبردار نہیں ہوا بلکہ انہیں عارضی طور پر معطل کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں نئی گزرگاہ کے قیام کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی مؤقف کے مطابق مذاکرات وہیں سے دوبارہ شروع کیے جائیں جہاں پہلے رکے تھے، جبکہ ترجیحی بنیاد پر پہلے آبنائے ہرمز، پھر منجمد اثاثوں اور اس کے بعد جوہری پروگرام سے متعلق امور پر بات چیت ہونی چاہیے۔
دوسری جانب امریکی خبر رساں ادارے ایگزیوس کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوج کو ایران میں کوئی نیا حملہ نہ کرنے کا حکم دیا ہے، جس کے بعد تقریباً دو ہفتوں سے جاری روزانہ حملوں کا سلسلہ رک گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں کہ یہ فیصلہ عارضی ہے یا طویل مدت تک برقرار رہے گا، تاہم اگر دوبارہ حملوں کا حکم دیا جاتا ہے تو امریکی فوج مختصر نوٹس پر کارروائی کے لیے تیار ہے۔ وائٹ ہاؤس نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواست پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






