بھارتی خفیہ ایجنسی ‘را’ کا سوشل میڈیا کی دنیا میں پاکستان مخالف گمراہ کن پروپیگنڈا بے نقاب ہو چکا ہے۔
معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار وسیم بادامی سے گفتگو کرتے ہوئے ‘را’ کے ایک سہولت کار نے انکشاف کیا کہ موجودہ دور میں لوگ اپنے اکاؤنٹس یا کاروباری سیٹ اپ کو بہتر بنانے کے لیے ڈیجیٹل ٹولز خریدتے ہیں، اور لوگ اپنی ویڈیوز یا پروڈکٹس کی تشہیر کے لیے ان سے سروسز حاصل کرتے ہیں تاکہ ان کے اکاؤنٹس کی ریچ اور ہیلتھ بہتر نظر آ سکے۔
سہولت کار نے وضاحت کی کہ وہ سروس فراہم کر کے مختلف برانڈز کے فالوورز اور ویوز بڑھانے کا کام کرتے ہیں، اور جس بھی شخص یا ادارے کو اپنے فالوورز، ویوز یا اکاؤنٹ کی حالت میں بہتری درکار ہوتی ہے، وہ ان سے رابطہ قائم کرتا ہے۔
‘را’ کے سہولت کار نے بتایا کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے شعبے میں ‘اسٹرائیک پیمنٹ گیٹ وے’ کا استعمال کیا جاتا ہے جو بیرون ملک سے رقم پاکستان منتقل کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، اور یہ طریقہ کار مختلف بین الاقوامی بینکوں کے ساتھ جڑنے کی سہولت فراہم کرتا ہے۔ اس عمل میں کلائنٹس اپنے اکاؤنٹس اور دیگر مطلوبہ تفصیلات مہیا کرتے ہیں جس کے بعد ان کے اکاؤنٹس پر بوٹس لگا دیے جاتے ہیں۔
ان بوٹس کو خصوصی ہدایات دی جاتی ہیں کہ کس اکاؤنٹ کے ویوز یا لائیکس فوری طور پر بڑھانے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کلائنٹ نے اپنے اکاؤنٹ پر کیا مواد جاری کیا ہے، وہ عموماً اس پر زیادہ غور نہیں کرتے۔ اسی سلسلے میں رواں برس مارچ کے مہینے میں ان کے پاس ایک کلائنٹ آیا جس نے ویوز اور لائیکس کے مختلف پیکجز خریدے۔ اس کلائنٹ نے 15 دن بعد دوبارہ پیکجز خریدے اور مجموعی طور پر تقریباً 3.6 ملین روپے کے آرڈرز دیے، جن میں مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے لیے لائیکس، ویوز اور پوسٹنگ کے آرڈرز شامل تھے۔
سہولت کار کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے اس کلائنٹ کے لیے کافی حد تک کام کر لیا تو سیکیورٹی اداروں نے ان سے رابطہ کیا اور تفتیش کا آغاز کیا۔ اس تفتیش کے دوران ہی انہیں اصل معاملا معلوم ہوا جب ان کے سامنے وہ تمام مواد رکھا گیا جو ان کی فراہم کردہ سروسز کے ذریعے پروموٹ کیا جا رہا تھا۔ وہ تمام مواد ریاست مخالف تھا جس میں مختلف قسم کی پوسٹس شامل تھیں، اور ان میں ایسی پوسٹس بھی موجود تھیں جن کا تعلق پاکستان کی افواج اور عوام سے تھا۔
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ کلائنٹ کی طرف سے جاری کردہ ان پوسٹس میں یہ منفی بیانیہ بھی پھیلایا جا رہا تھا کہ لوگوں پر ظلم ڈھایا جا رہا ہے۔
سہولت کار نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ وی پی این کے استعمال سے آئی پی ایڈریس تو چھپ جاتا ہے لیکن جس ڈیوائس سے کام کیا جائے، وہ اپنا ڈیجیٹل فٹ پرنٹ لازمی چھوڑتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ کلائنٹ اس سال مارچ میں ان کے پاس آیا تھا اور تقریباً 20 دن پہلے سیکیورٹی اداروں نے تمام ثبوت و شواہد ان کے سامنے رکھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس کلائنٹ نے ان کی سروسز کے ذریعے کشمیری عوام اور کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے حق میں اور ان سے متعلق مواد پر بڑی تعداد میں ویوز خریدے۔ سہولت کار نے بتایا کہ اس کلائنٹ سے متعلق تمام تر تفصیلات اور معلومات ان کے پاس محفوظ ہیں جو انہوں نے سیکیورٹی اداروں کے حوالے کر دی ہیں۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






