اسلام آباد (آئی این پی): وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے اور ہمسایہ ملک دہشتگرد عناصر کو وسائل فراہم کر رہا ہے۔ انہوں نے افغانستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان کے بلوچ اور پشتون عوام نے قیام پاکستان میں اہم کردار ادا کیا اور صوبے کی قیادت نے ہمیشہ وفاق کی مضبوطی کو ترجیح دی۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے وسیع رقبے اور دور دراز علاقوں کے باعث ترقیاتی وسائل کی ضرورت زیادہ ہے۔ این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب سمیت تمام صوبوں نے بلوچستان کے لیے بھرپور تعاون کیا، جبکہ پنجاب نے اپنے حصے سے 150 ارب روپے بلوچستان کو دیے۔
شہباز شریف نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے ریکارڈ فنڈز فراہم کیے ہیں۔ صوبے کے 27 ہزار ٹیوب ویلز شمسی توانائی پر منتقل کیے جا چکے ہیں، جبکہ کسانوں کے لیے 75 ارب روپے کے منصوبے میں وفاق نے 50 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔ کراچی تا چمن دو رویہ شاہراہ بھی زیر تعمیر ہے، جس پر 300 ارب روپے لاگت آئے گی۔
وزیراعظم نے مستونگ حملے میں سیشن جج عبدالحکیم اور ایک اہلکار کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور سیکیورٹی فورسز ملک کے دفاع اور امن کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔ ان کے بقول 2018 میں دہشتگردی پر بڑی حد تک قابو پا لیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں ایک منظم سازش کے تحت دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا، جس میں بھارت کا کردار واضح ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان دہشتگرد عناصر کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے مؤثر اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے حالیہ عرصے میں اہم کامیابیاں حاصل کی ہیں، دشمن کو شکست دی ہے اور عالمی سطح پر پاکستان کی سفارتکاری کو سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے فیلڈ مارشل اور نائب وزیراعظم کی خدمات کو بھی خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ اب ملک کو معاشی ترقی اور قومی خوشحالی کی راہ پر مزید تیزی سے گامزن کرنا ہوگا۔
تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں






