//

سعودی عرب میں نیا تعلیمی قانون نافذ، کیا اہم تبدیلیاں کی گئیں؟، جانئے

سعودی عرب نے تعلیم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے نئے جنرل ایجوکیشن قانون کی ایگزیکٹو اور ریگولیٹری دفعات کی منظوری دے دی ہے۔ یہ اصلاحات نرسری سے گریڈ 12 تک کے تعلیمی نظام کے لیے جامع قانونی فریم ورک فراہم کرتی ہیں اور انہیں ویژن 2030 کے اہداف سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔

نئے قانون کے تحت وزیرِ تعلیم کی سربراہی میں جنرل ایجوکیشن افیئرز کونسل قائم کی گئی ہے، جو قومی تعلیمی پالیسی، حکمت عملی، تعلیمی معیار، اساتذہ کے ضوابط، لازمی تعلیم، ورچوئل و نجی اسکولوں کی نگرانی اور تعلیمی کیلنڈر سمیت اہم امور کی نگرانی کرے گی۔

قانون کے مطابق 6 سے 15 سال کی عمر تک تعلیم لازمی ہوگی، جبکہ کسی بچے کو اس مدت کے دوران تعلیم سے محروم رکھنے پر متعلقہ ذمہ دار کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکے گی۔ سرکاری اسکولوں میں تعلیم بدستور مفت رہے گی اور عربی زبان تدریس کی بنیادی زبان برقرار رہے گی، البتہ ضرورت کے مطابق دیگر زبانوں میں بھی تعلیم دی جا سکے گی۔

سرکاری اسکولوں میں ابتدائی مرحلے کے بعد لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے علیحدہ تعلیمی نظام برقرار رکھا جائے گا، تاہم یہ شرط نجی تعلیمی اداروں پر لاگو نہیں ہوگی۔ کلاس روم میں تدریس بنیادی طریقۂ تعلیم رہے گا، جبکہ آن لائن اور تاحیات تعلیم کے فروغ کے لیے بھی نئے ضوابط متعارف کرائے جائیں گے۔

قانون میں معذور اور باصلاحیت طلبہ کے لیے خصوصی سہولتوں کا بھی اہتمام کیا گیا ہے، جبکہ لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق خصوصی اور پیشہ ورانہ تعلیمی پروگرام متعارف کرانے کی ذمہ داری وزارتِ تعلیم کو سونپی گئی ہے۔

نجی اسکولوں کے لیے بھی نئے معیار مقرر کیے گئے ہیں۔ انہیں منظور شدہ قومی یا بین الاقوامی ایکریڈیٹیشن حاصل کرنا ہوگی، جبکہ لائسنسنگ، ملکیت کی منتقلی، بین الاقوامی نصاب اور قومی مضامین کی تدریس بھی وزارتِ تعلیم کے ضوابط کے مطابق ہوگی۔ تعلیمی لائسنس کی درخواستوں پر 30 دن کے اندر فیصلہ کیا جائے گا، جبکہ مسترد ہونے کی صورت میں اپیل کا حق بھی حاصل ہوگا۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close