//

امریکا کا ایران کی جوہری تنصیبات پر قبضے کا بڑا منصوبہ، نیویارک پوسٹ

واشنگٹن (آئی این پی): امریکی اخبار نیویارک پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق سفارتی کوششیں ناکام ہو گئیں تو امریکا ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات میں موجود غنی شدہ یورینیم کے ذخائر پر قبضہ کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر خصوصی فوجی آپریشن پر غور کر سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ماہرین اس ممکنہ کارروائی کو عسکری تاریخ کے پیچیدہ ترین آپریشنز میں شمار کر رہے ہیں۔

رپورٹ میں ماہرین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکی اسپیشل آپریشنز فورسز ایسے ممکنہ آپریشن کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لے رہی ہیں، جس کے تحت ایرانی جوہری تنصیبات میں موجود یورینیم کو قبضے میں لے کر ملک سے باہر منتقل کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق بعض عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مشن کے لیے ایرانی سرزمین کے اندر وسیع لاجسٹک انتظامات، سخت سکیورٹی اقدامات اور ہزاروں فوجیوں کی تعیناتی درکار ہوگی، جس کے بعد اسپیشل فورسز کی چھوٹی ٹیمیں غنی شدہ یورینیم تک رسائی حاصل کر کے اسے محفوظ طریقے سے منتقل کریں گی۔

سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کے نائب ڈائریکٹر جوزف راجرز کے مطابق ایران کے موجودہ جوہری مواد سے نمٹنے کے لیے فوجی آپشن مؤثر ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ سفارتی مذاکرات میں اب تک خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔

رپورٹ میں ملٹری پلاننگ سے واقف ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ممکنہ کارروائی کے دوران جوہری تنصیبات کے گرد حفاظتی حصار قائم کرنے، رکاوٹیں اور بارودی مواد ہٹانے اور محفوظ راہداریاں بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر فوجی تعیناتی کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

نیویارک پوسٹ کے مطابق اس آپریشن میں امریکی سیل ٹیم 6، رینجرز کی دوسری بٹالین اور خطرناک و بارودی مواد سے نمٹنے والی 21 ویں کمپنی کے اہلکار شامل ہو سکتے ہیں، جبکہ غنی شدہ یورینیم کو محفوظ طریقے سے سنبھالنے اور منتقل کرنے کی ذمہ داری بھی اسی یونٹ کو سونپی جا سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) نے 2025 میں اندازہ لگایا تھا کہ ایران کے پاس 20 ہزار پاؤنڈ سے زائد غنی شدہ یورینیم موجود ہے۔ ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے کسی بھی آپریشن کی کامیابی کے لیے زمینی اور فضائی انخلا کی محفوظ راہداریاں قائم کرنا اور ممکنہ ایرانی جوابی حملوں سے نمٹنے کی صلاحیت ناگزیر ہوگی۔

امریکی قومی سلامتی کونسل کے سابق عہدیدار اور ایران کے مہلک ہتھیاروں سے متعلق امور کے سابق ڈائریکٹر رچرڈ گولڈ برگ نے کہا کہ سب سے بڑا چیلنج محفوظ انخلا مکمل ہونے تک امریکی فورسز کی اپنی پوزیشن برقرار رکھنے کی صلاحیت ہوگی۔ ان کے مطابق انٹیلی جنس رپورٹس یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ ایران نے اصفہان کی جوہری تنصیب کے گرد دفاعی انتظامات مزید مضبوط کر دیے ہیں، اضافی فورسز تعینات کی ہیں اور بارودی مواد بھی نصب کیا ہے۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے ممکنہ دراندازی کے خدشے کے پیش نظر اصفہان کی جوہری تنصیب کی سرنگوں میں بارودی سرنگیں بچھا رکھی ہیں، جبکہ نطنز کے قریب واقع جبل بیکیکس بھی ایک نئے ممکنہ ہدف کے طور پر سامنے آیا ہے۔

تاہم رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) یا وائٹ ہاؤس نے اب تک اس نوعیت کے کسی عملی فوجی منصوبے کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی ہے۔

تازہ ترین خبروں کے لیے پی این آئی کا فیس بک پیج فالو کریں

close