لیوی ختم نہیں کر سکتے تو ہم دھرنا نہیں ختم کر سکتے، حافظ نعیم الرحمان

لاہور(آئی این پی) امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ لیوی ختم نہیں کر سکتے تو ہم دھرنا نہیں ختم کر سکتے، لانگ مارچ کا بھی آغاز کرنے جا رہے ہیں، اب حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑے گا۔

مہنگائی اور پٹرولیم مصنوعات کیخلاف جماعت اسلامی کا دھرنا ساتویں روز میں داخل ہو گیا، لاہور میں دھرنے کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے باہر چلے جائیں تاکہ انہیں بہتر روزگار مل سکے، خواتین ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ ہیں، حکومت نے بچیوں سے ان کا بنیادی حق ہی چھین لیا ہے۔

امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ڈاکٹر بننے والی بچیوں کو بھی ہاؤس جاب میں پورا حصہ نہیں ملتا، مریم نواز نے خواتین کو ٹرمینیٹ کیا، پھر انہیں دھمکایا بھی کہ ہمارے خلاف نہیں بولنا، سکول آپ نے بیچ دیئے ہیں، وہ ہمارے ٹیکسوں سے بنے تھے، ہمارے حق پر ڈاکہ مار کر اپنی عیاشیاں چل رہی ہیں، خطے میں کوئی اتنی تیزی سے قیمتیں نہیں بڑھاتا جیسے پاکستان بڑھاتا ہے، لیوی ختم نہیں کر سکتے تو ہم دھرنا نہیں ختم کر سکتے، ہم جلد مہم چلانے لگے ہیں، لانگ مارچ کا بھی آغاز کرنے جا رہے ہیں، کوالٹی ایجوکیشن ہمارا بھی حق ہے، اس کے لیے ہم دھرنے دیں گے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تعلیم و علاج کی سہولت نہ دو، روزگار نہ دو، بس پیرا فورس آئے اور اٹھا کر سب لے جائے، جماعت اسلامی عوام کیلئے میدان میں نکلی ہے، یہ تو شروعات ہے، جدوجہد کا آغاز ہے، یہ دھرنا طویل ہوتا جائے گا، اب حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑے گا، وہ کہتے ہیں یہ کیسے کریں، آپ اپنا جہاز اور بڑی گاڑیاں بیچ دو، بنوقابل پروگرام میں 17 لاکھ طالب علم کام کررہے ہیں، ہم حق کیلئے لڑ رہے ہیں، ظلم کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ آپ کا اور پوری قوم کا مقدمہ ہے، مریم نواز، ان کے والد اور چاچا جان سمیت سارا خاندان غور سے دیکھ لیں، انہوں نے اتنے سالوں میں کیا سلوک کیا جو خواتین باہر نکلی ہیں، دھرنے کا ساتواں روز ہے، حکومت اپنی ڈھٹائی چھوڑ دے، عورتیں خوشی خوشی نوکریاں نہیں کرتیں، خواتین خود میدان میں آتی ہیں مگر یہ نظام انہیں سہولیات فراہم نہیں کرتا۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ یہ صوبہ پنجاب جس کی وزیراعلیٰ خود خاتون ہیں، یہاں خواتین بھی محفوظ نہیں ہیں، ہزار 600 سے زائد خواتین کیساتھ زیادتی کے کیس رپورٹ ہوئے، بہت سے کیس ایسے ہیں جو سامنے ہی نہیں آتے، بچیوں کے سکول پرائیویٹ کر دیئے ہیں، پنجاب میں لاکھوں بچیاں اسکولوں سے باہر ہیں، پوری دنیا کے سامنے یہ تماشا کرتے ہیں کہ ہم بہت آزاد خیال ہیں مگر یہی حکومت سب سے زیادہ خواتین کے حقوق پامال کر رہی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت امن، محفوظ ٹرانسپورٹ اور بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ناکام ہو چکی ہے اور عوام کے سامنے صرف چند نمائشی اقدامات پیش کیے جا رہے ہیں، مہنگائی نے خواتین کو گھریلو مسائل میں مبتلا کر دیا ہے، مائیں اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر بچوں کی فیسیں ادا کرنے پر مجبور ہیں جبکہ لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہو چکے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ صحت کے شعبے کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بنیادی مراکز صحت سے متعلق ذمہ داری سے جان چھڑانے کی کوشش کی ہے، جو ڈاکٹر اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتا ہے اسے نوکری سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں جبکہ حکومت کے پاس ڈاکٹروں کو دینے کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ساڑھے 8 کروڑ مزدور ہیں، جن میں تقریباً تین کروڑ خواتین شامل ہیں، خواتین فیکٹریوں اور کھیتوں میں کام کرتی ہیں لیکن پنجاب کی چار کروڑ خواتین کے لیے کم از کم اجرت بھی طے نہیں ہے۔