مکہ دفاعی معاہدہ پاکستان کے لیے اسٹریٹجک، سفارتی، علاقائی توازن کا ذریعہ قرار

امریکی جریدے نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو پاکستان کے لیے اسٹریٹجک، سفارتی اور علاقائی توازن کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

معروف امریکی جریدے ایف پی آئی ایف نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو پاکستان کے لیے اسٹریٹجک وسعت کے ساتھ ساتھ سفارتی اور علاقائی توازن کا اہم ذریعہ قرار دیا ہے۔

جریدے کے مضمون میں کہا گیا ہے کہ اس معاہدے نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کو ایک نئے علاقائی دفاعی فریم ورک میں جوڑ دیا ہے۔

مضمون کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے معاہدے کی حمایت پاکستان کے لیے واشنگٹن میں سفارتی وزن کی علامت ہے، جبکہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان گہرے دفاعی تعلقات بھارت کی علاقائی حکمت عملی پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔

جریدے نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کو ایران مخالف اتحاد قرار دینا درست نہیں۔ بڑھتا ہوا بھارتی اور اسرائیلی اسٹریٹجک تعاون پاکستان کے لیے مکہ معاہدے کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔

مضمون میں کہا گیا ہے کہ مکہ معاہدے میں دیگر علاقائی ممالک کے لیے بھی شمولیت کا راستہ کھلا رکھا گیا ہے، جبکہ معاہدے کی اصل طاقت کسی سخت بلاک کے قیام کے بجائے اس کی شمولیتی اور لچکدار نوعیت میں ہے۔