واشنگٹن (آئی این پی) امریکی محکمہ داخلہ کے مطابق معروف ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم ٹک ٹاک نے بچوں کی آن لائن رازداری سے متعلق وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کے الزامات پر امریکی وزارتِ انصاف کے ساتھ 400 ملین ڈالر کے تصفیے پر رضامندی ظاہر کردی۔
برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق یہ کارروائی بچوں کی آن لائن پرائیویسی کے تحفظ سے متعلق قانون کے تحت ہونے والے بڑے معاہدوں میں شامل ہے۔ امریکی قانون کے تحت 13 سال سے کم عمر بچوں کی ذاتی معلومات والدین کی اجازت کے بغیر جمع کرنے پر پابندی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق 2024 میں محکمہ انصاف اور فیڈرل ٹریڈ کمیشن کی جانب سے دائر مقدمے میں الزام لگایا گیا تھا کہ ٹک ٹاک نے والدین کو آگاہ کیے بغیر لاکھوں بچوں کا ذاتی ڈیٹا جمع اور استعمال کیا، جس سے بچوں کی رازداری اور تحفظ کو خطرہ لاحق ہوا۔
معاہدے کے تحت ٹک ٹاک 300 ملین ڈالر فوری طور پر ادا کرے گا، جبکہ مزید 100 ملین ڈالر سابقہ حکم نامے کی منسوخی کے بعد ادا کیے جائیں گے۔ سابقہ فیصلہ ٹک ٹاک کی پیشرو ایپ میوزکلی سے متعلق تھا، جسے بائٹ ڈانس نے 2017 میں خرید کر ٹک ٹاک میں ضم کردیا تھا۔
حکام نے الزام عائد کیا کہ 13 سال سے کم عمر بچوں کے لیے بنائے گئے کڈز موڈ اکاؤنٹس کے ذریعے بھی ای میل ایڈریسز اور دیگر حساس معلومات جمع کی جاتی رہیں۔
دوسری جانب یورپی یونین اور برطانیہ میں بھی بچوں کے ڈیٹا اور آن لائن تحفظ سے متعلق ٹک ٹاک کے خلاف تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ٹک ٹاک نے تصفیے اور الزامات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔






