واشنگٹن (آئی این پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران سے متعلق سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ ایران کے ساتھ معاہدے کے امکانات بھی موجود ہیں۔
جنوبی کیرولائنا میں سینیٹر ڈارلین گراہم کی حمایت میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم ان کے بقول تہران ابھی ’’درست معاہدے‘‘ کے لیے تیار نہیں۔
ٹرمپ نے ایرانی قیادت پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ایران میں کوئی بھی صدر نہیں بننا چاہتا، جس کی وجہ سے ان کے لیے یہ مسئلہ پیدا ہوگیا ہے کہ امریکا کو معلوم نہیں کہ ایران میں کس سے بات کی جائے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران کی اعلیٰ اور دوسری سطح کی قیادت ختم ہوچکی ہے جبکہ تیسری سطح کی قیادت کے بھی کچھ ارکان مارے گئے ہیں۔ ان کے بقول ایران کے پاس اب بحریہ، فضائیہ، ریڈار، فنی آلات اور دفاعی سازوسامان تیار کرنے کی صلاحیت نہیں رہی۔
ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی حکومت کے پاس فوجیوں اور پولیس کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی رقم نہیں اور ایران میں افراط زر 350 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کے اگلے اقدامات کا انتظار کرے گا اور فی الحال ’’دیکھو اور انتظار کرو‘‘ کی پالیسی اختیار کی جائے گی۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا کو پورے خطے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور کہا، ’’میں اب آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے رہا ہوں۔‘‘
امریکی صدر نے ایک بار پھر خبردار کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے اور ایسا ہونے کی صورت میں ’’بہت برے نتائج‘‘ سامنے آسکتے ہیں۔






