شانگلہ(آئی این پی) شانگلہ میں بجلی کی بدترین بندش اور لوڈشیڈنگ کے خلاف عوام سراپا احتجاج بن گئے۔ مختلف علاقوں میں 12، 12 گھنٹے بجلی بند رہنے جبکہ ایک گھنٹے کی فراہمی کے دوران بھی 15 سے 20 منٹ بجلی بند ہونے سے کاروبار اور معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
شانگلہ میں بجلی کی بندش نے بدترین صورتحال اختیار کرلی ہے، جہاں مختلف علاقوں میں مسلسل 12، 12 گھنٹے بجلی بند رہنے سے پوری وادی اندھیروں میں ڈوب گئی ہے، جبکہ بار بار ٹرپنگ اور وقفے وقفے سے لوڈشیڈنگ نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ شدید گرمی کے موسم میں بجلی کی طویل بندش پر شہریوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور مختلف حلقوں کی جانب سے احتجاج کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔
شانگلہ کے عوام کا کہنا ہے کہ ضلع اپنے مقامی آبی وسائل سے بڑی مقدار میں بجلی پیدا کرنے کے باوجود بجلی کے شدید بحران کا شکار ہے، جو ان کے ساتھ سراسر ناانصافی اور امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔ شانگلہ کے مختلف ہائیڈرو پاور منصوبوں سے مجموعی طور پر 85 میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا ہونے کے باوجود ضلع کے متعدد علاقے طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کر رہے ہیں۔
منگل اور بدھ کی درمیانی شب شانگلہ کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی متعدد مرتبہ بحال کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم بار بار ٹرپنگ کے بعد بجلی کئی گھنٹوں تک بحال نہ ہوسکی اور بعض علاقوں میں تقریباً 12 گھنٹے تک بجلی بند رہی۔ اس صورتحال کے باعث گھریلو صارفین، طلبہ، سرکاری و نجی اداروں اور بجلی سے وابستہ چھوٹے کاروبار کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ صبح کے اوقات میں بجلی بحال ہونے کے بعد بھی صورتحال معمول پر نہیں آتی، بلکہ تقریباً ہر گھنٹے بعد لوڈشیڈنگ شروع ہوجاتی ہے۔ ایک گھنٹے کے دوران بجلی کی فراہمی بھی مسلسل نہیں رہتی اور مختلف فنی خرابیوں، ٹرپنگ اور دیگر وجوہات کی بنا پر مزید 20 سے 35 منٹ تک بجلی بند کردی جاتی ہے، جس سے صارفین کو بمشکل چند منٹ بجلی میسر آتی ہے۔
شانگلہ میں گزشتہ کئی برسوں سے بجلی کی غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ معمول بن چکی ہے۔ بعض اوقات چار سے چھ گھنٹے مسلسل بجلی بند رہتی ہے جبکہ مجموعی بندش کا دورانیہ 15 سے 16 گھنٹے تک بھی پہنچ جاتا ہے۔ ہفتہ اور اتوار کے روز مختلف فیڈرز پر طویل بندش کے باعث صورتحال مزید سنگین ہوجاتی ہے۔
واپڈا حکام کی جانب سے اکثر تعمیر و مرمت کے کام کو بجلی بند رکھنے کی وجہ قرار دیا جاتا ہے، تاہم صارفین کا کہنا ہے کہ اس عمل کے دوران عوام کو پیشگی اور واضح شیڈول فراہم نہیں کیا جاتا۔
شانگلہ کے عوام کا کہنا ہے کہ ضلع میں بجلی کی پیداوار کے باوجود مقامی آبادی کو بجلی کی بنیادی سہولت سے محروم رکھنا ناقابل قبول ہے۔ ان کے مطابق شانگلہ میں کروڑہ ہائیڈرو پاور منصوبہ تقریباً 13 میگاواٹ اور خان خوڑ ڈیم 72 میگاواٹ بجلی پیدا کرکے نیشنل گرڈ کو فراہم کرتا ہے جبکہ ضلع کی مقامی ضرورت اس کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔ اس کے باوجود بجلی کی طویل بندش سے عوام میں یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ مقامی وسائل سے پیدا ہونے والی بجلی کا فائدہ شانگلہ کے عوام کو کیوں نہیں مل رہا۔
طویل لوڈشیڈنگ سے بجلی پر چلنے والے چھوٹے کاروبار بھی شدید متاثر ہورہے ہیں۔ ہسپتالوں، اسکولز، کالجز، لیبارٹریوں، ایکسرے مراکز، دکانوں، ورکشاپس، آٹا چکیوں، ویلڈنگ یونٹس، الیکٹرونکس اور دیگر کاروباری مراکز میں کام کا سلسلہ بار بار معطل ہونے سے تاجروں کو مالی نقصان کا سامنا ہے۔ کاروباری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو متعدد چھوٹے کاروبار بند ہونے کے خطرے سے دوچار ہوجائیں گے۔
شہریوں اور مختلف سماجی حلقوں نے وفاقی حکومت، واپڈا اور متعلقہ بجلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شانگلہ میں جاری غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ کا فوری نوٹس لیا جائے، بجلی کی فراہمی کا باقاعدہ اور واضح شیڈول جاری کیا جائے اور بار بار ٹرپنگ کی وجوہات دور کی جائیں۔
دریں اثناء مقامی ایکشن کمیٹی اور دیگر عوامی حلقوں نے بجلی کی بدترین بندش کے خلاف احتجاج کے لیے رابطے شروع کردیئے ہیں۔ عوامی نمائندوں اور سماجی حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بجلی کی صورتحال فوری طور پر بہتر نہ کی گئی تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
شانگلہ کے عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ شانگلہ میں موجود پن بجلی کے منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کے تناسب سے مقامی آبادی کو مناسب بجلی فراہم کی جائے اور طویل لوڈشیڈنگ کا مستقل حل تلاش کیا جائے تاکہ گھریلو صارفین کے ساتھ ساتھ کاروباری سرگرمیوں کو بھی تباہی سے بچایا جاسکے۔






