ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کی سہولت رکھنے والا ہر دکاندار ٹئیر ون ریٹیلر تصور نہیں ہوگا۔ نئے قانون کے تحت ٹئیر ون ریٹیلر کی کیٹیگری کے تعین کے لیے کاروبار کے حجم اور ٹرن اوور کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔
نئے قانون کے مطابق 20 کروڑ روپے سے زائد سالانہ ٹرن اوور رکھنے والے ریٹیلرز ٹئیر ون کیٹیگری میں شامل ہوں گے، جبکہ ہول سیل کم ریٹیل کاروبار کرنے والوں کے لیے بھی 20 کروڑ روپے سے زائد ٹرن اوور کی شرط مقرر کی گئی ہے۔
اشیاء درآمد کرکے انہیں ہول سیل یا ریٹیل فروخت کرنے والے کاروبار بھی ٹئیر ون کیٹیگری میں شامل ہوں گے۔ تاہم صرف پی او ایس مشین رکھنے یا کارڈ کے ذریعے ادائیگی کی سہولت فراہم کرنے کی بنیاد پر کسی دکاندار کو ٹئیر ون ریٹیلر قرار نہیں دیا جائے گا۔
نئے قانون کے تحت چھوٹے دکاندار ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولت رکھنے کے باوجود ٹئیر ون کیٹیگری سے باہر رہ سکیں گے۔
ٹئیر ون ریٹیلر کی تعریف میں ڈیبٹ، کریڈٹ کارڈ اور دیگر ڈیجیٹل ادائیگیوں سے متعلق سابقہ شق ختم کر دی گئی ہے، جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس کی بنیاد پر ٹئیر ون ریٹیلر کی شناخت کا سابقہ طریقہ کار بھی تبدیل کر دیا گیا ہے۔
فنانس ایکٹ کے بعد ٹئیر ون ریٹیلر کی شناخت کا بنیادی فوکس کاروبار کے حجم اور ٹرن اوور پر ہوگا، جس کے ذریعے چھوٹے اور بڑے ریٹیل کاروبار کے درمیان فرق مزید واضح کیا گیا ہے۔






