نوکری خطرے میں، وزیر تعلیم کا بڑا اعلان

وزیر تعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیر سے ایک سرکاری اسکول میں خود کلاس لیں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے متعلقہ اسکول کا ٹیسٹ لیا جائے گا اور اس کے نتائج عوام کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ مسلسل ناقص نتائج دینے والے اسکولوں اور اساتذہ کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

رانا سکندر حیات کے مطابق سرکاری کالجز میں طلبہ کے داخلوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور تعداد 2 لاکھ 7 ہزار سے بڑھ کر ڈھائی لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ ان کے مطابق داخلوں میں اضافے کی بڑی وجہ مستقل پرنسپلز کی تعیناتی ہے۔ پنجاب کے تقریباً 850 سرکاری کالجز میں سے 550 میں مستقل پرنسپلز تعینات کیے جاچکے ہیں، جبکہ 200 سرکاری کالجز میں 30 سے 50 کمپیوٹرز پر مشتمل جدید لیبارٹریز بھی قائم کی گئی ہیں۔ کالجز میں ہر ماہ امتحانات کا نظام بھی شروع کردیا گیا ہے۔

وزیر تعلیم نے بتایا کہ پنجاب یونیورسٹی میں داخلوں کی تعداد 12 ہزار سے بڑھ کر 16 ہزار، یو ایم ٹی میں 12 ہزار سے بڑھ کر 19 ہزار، کمالیہ یونیورسٹی میں 400 سے بڑھ کر 2600 اور ویٹرنری یونیورسٹی لاہور میں داخلے 550 سے بڑھ کر 3200 ہوگئے ہیں۔ غازی یونیورسٹی ڈیرہ غازی خان میں داخلوں کی تعداد بھی 4200 سے بڑھ کر تقریباً 9 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

ان کے مطابق سرکاری جامعات میں مجموعی طور پر داخلوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ٹائمز رینکنگ میں پنجاب کی جامعات نے بھی نمایاں پوزیشنز حاصل کی ہیں۔

رانا سکندر حیات نے کہا کہ خراب نتائج دینے والے اسکولوں کے عملے کو متعدد نوٹسز جاری کیے جاچکے ہیں اور مسلسل ناقص کارکردگی کی صورت میں اسٹاف کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ان کے مطابق ہر اسکول، تحصیل اور ضلع کی سطح پر نتائج کا احتساب ہونا چاہیے، اسی مقصد کے لیے ہر اسکول کے نتائج کا ڈیٹا کی بنیاد پر تجزیہ کیا جارہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اساتذہ کی کمی پوری کرنے کے لیے 25 ہزار اسکول ٹیچنگ انٹرنز تعینات کیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگلے سال نویں جماعت کے نتائج میں بہتری متوقع ہے، جبکہ گزشتہ سال نویں جماعت میں 43 سے 44 فیصد نمبر لینے والے طلبہ کی کارکردگی میں بھی بہتری آئی ہے۔ سرکاری اسکولوں کے طلبہ کے لرننگ آؤٹ کمز بھی بہتر ہورہے ہیں۔

وزیر تعلیم کے مطابق پنجاب میں دسویں جماعت کے امتحانات میں 73.1 فیصد کامیابی حاصل ہوئی، جبکہ آٹھویں جماعت کا نتیجہ 87 فیصد رہا۔ پانچویں جماعت کا امتحان بھی دوبارہ متعارف کرایا جارہا ہے۔ نویں جماعت میں کمزور طلبہ کی نشاندہی کرکے ان پر خصوصی توجہ دی جائے گی، جبکہ کمزور اسکولوں میں سبجیکٹ اسپیشلسٹ اسکول ٹیچنگ انٹرنز تعینات کیے جائیں گے۔

امتحانات میں نقل اور جعل سازی کے حوالے سے رانا سکندر حیات نے بتایا کہ 2019 سے 2023 تک تقریباً 1500 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ گزشتہ دو سال کے دوران 3600 سے زائد کیسز سامنے آئے۔ ان کے مطابق دو سال میں نقل اور جعل سازی کے کیسز میں تقریباً 300 فیصد اضافہ ہوا، تاہم امتحانات میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے سخت اقدامات کیے گئے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ مسلسل ناقص نتائج دینے والے اساتذہ کا احتساب کیا جائے گا۔ ان کے مطابق 20 فیصد سے کم نتائج دینے والے اساتذہ کے خلاف براہِ راست کارروائی کی جائے گی اور طویل انکوائریوں سے گریز کیا جائے گا۔ جو استاد مسلسل 3 سے 5 سال تک خراب نتائج دے، اسے عہدے پر برقرار رکھنے کا جواز نہیں بنتا۔

رانا سکندر حیات نے بتایا کہ تقریباً 2200 اسکولوں کی ناقص کارکردگی پورے پنجاب کے تعلیمی نتائج کو متاثر کررہی ہے۔ دوسری جانب اچھے نتائج دینے والے اساتذہ کو انعامات دیے جائیں گے۔

وزیر تعلیم کے مطابق دسویں جماعت میں سرکاری اسکولوں کا نتیجہ 73 فیصد جبکہ آؤٹ سورس اسکولوں کا 81 فیصد رہا، یوں آؤٹ سورس اسکولز نے سرکاری اسکولوں کے مقابلے میں 8 فیصد بہتر کارکردگی دکھائی۔ نویں جماعت میں بھی آؤٹ سورس اسکولوں کا نتیجہ سرکاری اسکولوں سے 11 فیصد بہتر رہا۔

انہوں نے کہا کہ بہتر نتائج دینے والے پی ای ایف پارٹنرز کے لیے فی طالب علم سبسڈی میں اضافے پر بھی غور کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اسکولوں کے بچوں کو کم تر سمجھنے کی سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور تعلیمی نظام میں امتحانات کی شفافیت حکومت کی ترجیح ہے۔