پنجاب کے سرکاری سکولوں کے فنڈز کی نگرانی مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ محکمہ سکول ایجوکیشن نے سکول مینجمنٹ کونسلز کے فنڈز کا مکمل حساب طلب کر لیا ہے۔
محکمہ نے تمام ڈسٹرکٹ ایجوکیشن اتھارٹیز سے آڈٹ کمیٹیوں کی تشکیل کا اسٹیٹس فوری طلب کرتے ہوئے تمام سی ای اوز سے جواب مانگا ہے۔ ایس ایم سی پالیسی کے تحت ہر ضلع میں 30 روز کے اندر آڈٹ کمیٹی قائم کرنا لازمی تھا۔ محکمہ نے ہدایت کی ہے کہ جن اضلاع میں آڈٹ کمیٹیاں قائم نہیں ہوئیں وہ عدم تعمیل کی واضح اور ٹھوس وجوہات پیش کریں، جبکہ کمیٹیاں تشکیل دینے والے اضلاع نوٹیفکیشن اور متعلقہ افسران کی مکمل تفصیلات جمع کرائیں۔
پالیسی کے مطابق ڈسٹرکٹ آڈٹ کمیٹی ہر سال 30 سے 40 فیصد سکول مینجمنٹ کونسلز کا آڈٹ کرے گی اور آڈٹ کے بعد جامع سالانہ رپورٹ محکمہ سکول ایجوکیشن کو جمع کرانا بھی لازم ہوگا۔ محکمہ نے سکول مینجمنٹ کونسلز کی سالانہ آڈٹ رپورٹس کا ریکارڈ بھی طلب کر لیا ہے۔ حکام کے مطابق سکول فنڈز میں مالی شفافیت اور درست استعمال یقینی بنانے کے لیے آڈٹ کا مؤثر نظام وضع کیا گیا تھا۔






