پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن اور حکومت کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد پیٹرولیم ڈیلرز نے ہفتے کی صبح سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کے فیصلے پر قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔
ڈیلرز ایسوسی ایشن کے اہم مطالبات میں کاروباری اخراجات، بجلی کے بھاری بلوں اور فرینچائز فیسوں کے پیش نظر پیٹرول پر ڈیلر مارجن بڑھا کر 8 فیصد کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ ڈیلرز روزانہ یا 24 گھنٹے کی بنیاد پر قیمتوں میں تبدیلی کے حکومتی نظام یعنی ڈیلی پرائسنگ میکانزم کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔
مذاکرات کے دوران حکومت نے ڈیلر مارجن میں ایک روپے 34 پیسے اضافے کی یقین دہانی کرائی تھی، جسے ڈیلرز نے کاروباری اخراجات کے مقابلے میں انتہائی ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا۔
پیٹرولیم ڈیلرز کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے کاروباری اخراجات اور روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کی تبدیلی سے کاروبار کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے۔ اس لیے قیمتوں کے تعین کا پرانا طریقہ کار بحال کیا جائے۔
ڈیلرز نے کاروباری اخراجات میں اضافے کی بنیاد پر حکومت کو 72 گھنٹے کا الٹی میٹم بھی دیا تھا۔ اس ڈیڈ لاک کے بعد پیٹرولیم ڈیلرز نے کراچی میں اپنی ایگزیکٹو کمیٹی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے تاکہ ہڑتال کے لائحہ عمل کو حتمی شکل دی جا سکے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر پیٹرولیم نے ڈیلرز کی جانب سے دی گئی اس ڈیڈ لائن پر سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔ حکومت نے قیمتوں کے اس یومیہ ردوبدل کے نظام میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے اعلان کیا تھا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین اب روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا اور اوگرا روزانہ نئی قیمتیں مرتب کر کے اپنی ویب سائٹ پر جاری کرے گی۔






