منشیات برآمدگی کیس ، عدالت نے ملزمہ انمول عرف پنکی کو بری کردیا

کراچی کی مقامی عدالت نے بدنام زمانہ منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کو ایک ہی دن میں 3 مقدمات میں بری کر دیا۔

جمعرات کو کراچی کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت جنوبی میں گزری تھانے میں درج منشیات کے 3 مقدمات کی سماعت ہوئی۔ ملزمہ کی جانب سے ایڈووکیٹ انعم کوثر عدالت میں پیش ہوئیں۔ سماعت کے دوران پراسیکیوشن ملزمہ کے خلاف شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی۔

وکیل صفائی نے عدالت کو بتایا کہ ان مقدمات میں شریک ملزمان پہلے ہی بری ہو چکے ہیں۔ ملزم علی اور فہمیدہ کو عدالت نے 2024 میں بری کیا تھا۔ انمول پنکی کو شریک ملزمان کے بیانات کی بنیاد پر مقدمات میں شامل کیا گیا تھا۔ تاہم جب شریک ملزمان پہلے ہی بری ہو چکے ہیں تو ملزمہ کے خلاف مقدمے میں سزا کا کوئی امکان نہیں رہا۔

عدالت نے دلائل سننے کے بعد انمول عرف پنکی کی مزید 2 مقدمات میں بریت کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے رہائی کا پروانہ بھی جاری کر دیا۔ عدالت نے حکم دیا کہ اگر ملزمہ کسی اور مقدمے میں نامزد یا مطلوب نہیں ہے تو اسے رہا کر دیا جائے۔

یاد رہے کہ انمول عرف پنکی کو 12 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گارڈن سے پولیس اور ایک وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کے مطابق خفیہ اطلاع پر کی گئی کارروائی کے دوران ملزمہ کے قبضے سے تقریباً 1.5 کلو کوکین، 9 ایم پستول اور کوکین کی تیاری میں استعمال ہونے والا کیمیکل برآمد ہوا تھا۔

کراچی پولیس کے مطابق انمول پنکی کے خلاف اس سے پہلے بھی متعدد مقدمات درج تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انمول عرف پنکی کے خلاف کراچی کے مختلف تھانوں میں 16 سے زائد مقدمات درج ہیں۔ ان میں منشیات فروشی، غیر قانونی اسلحہ رکھنے اور دیگر سنگین جرائم کے الزامات شامل ہیں۔

تفتیشی حکام کے مطابق ملزمہ کے خلاف درخشاں، گزری، بغدادی، گارڈن، بوٹ بیسن اور ڈیفنس تھانوں میں مقدمات درج ہیں۔ منشیات کے مبینہ نیٹ ورک سے متعلق مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔

پولیس اور تفتیشی حکام کی جانب سے انمول عرف پنکی پر منشیات کی خرید و فروخت اور مبینہ طور پر منظم منشیات نیٹ ورک چلانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس کے خلاف درج مقدمات میں منشیات ایکٹ، غیر قانونی اسلحہ، اقدام قتل اور قتل سمیت مختلف دفعات شامل ہیں۔

پولیس کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انمول پنکی کا مبینہ نیٹ ورک کراچی سے باہر تک پھیلا ہوا تھا اور اس میں متعدد سہولت کار شامل تھے۔ حکام کے مطابق تفتیش کے دوران اس کے رابطوں، بینک لین دین اور مبینہ منشیات سپلائی نیٹ ورک کے حوالے سے بھی تحقیقات کی گئیں۔ ان دعوؤں کا حتمی تعین عدالتوں میں مقدمات کے فیصلوں سے ہوگا۔