پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں صوبہ جلسوں اور احتجاج کا متحمل نہیں ہوسکتا، خیبرپختونخوا کا سب سے بڑا مسئلہ امن و امان ہے، اگر پی ٹی آئی امن و امان کے مسائل پر بات کرے گی تو ہم اس کا ساتھ دیں گے۔
منصورہ میں امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا کو امن و امان، بجلی اور دیگر مسائل کا سامنا ہے، صوبے کے مسائل وفاق کے سامنے دلیل کے ساتھ رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امن و امان کے معاملے پر جب بھی بات ہوئی ہم نے ساتھ دیا اور صوبے کی خوشحالی کے لیے آئندہ بھی تعاون کے لیے تیار ہیں۔
پمز اسپتال کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے گورنر نے کہا کہ واقعے کے ذمہ داران کو سزا ملنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ مختلف واقعات کو میڈیا اجاگر کرتا ہے، تاہم مسائل اس وقت تک حل نہیں ہوں گے جب تک ملوث ملزمان کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا جاتا۔
بانی پی ٹی آئی کے علاج کے حوالے سے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی تیسری حکومت ہے، لیکن پارٹی نے بانی پی ٹی آئی کے علاج کے لیے صوبے کے کسی اسپتال کا نام تجویز نہیں کیا بلکہ اسلام آباد کے ایک نجی اسپتال کا نام دیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی نجی اسپتال میں علاج کی سہولت دی جاتی ہے تو کیا یہی سہولت ہر قیدی کو بھی حاصل ہوگی؟
اس موقع پر حافظ نعیم الرحمن نے گورنر خیبرپختونخوا کی آمد اور تعزیت پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی رواداری کا تقاضا ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کریں۔






