امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے نمٹنے کے لیے امریکا کے پاس تین نئی حکمت عملیاں موجود ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران اس وقت شدید معاشی مشکلات کا شکار ہے اور امریکا کے پاس اس سے نمٹنے کے لیے واضح حکمت عملی موجود ہے۔ ان کے مطابق امریکا ایران کی کمزوری پر نظر رکھے گا، ضرورت پڑنے پر سخت کارروائی کرے گا اور معاشی دباؤ بھی برقرار رکھے گا۔
اس سے قبل ٹرمپ نے اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول امریکی بحریہ کے پاس ہے اور امریکی فورسز نے آبنائے ہرمز سے ایرانی بارودی سرنگیں ہٹا دی ہیں۔
ٹرمپ نے ایران سے ہونے والے نقصانات کے بدلے بھاری معاوضے کا مطالبہ کرنے کا بھی عندیہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران ان افراد کے خاندانوں کے لیے معاوضے کا مطالبہ کیا جائے گا جو مختلف حملوں اور تنازعات میں ہلاک یا شدید زخمی ہوئے۔
امریکی صدر نے 2000 میں یمن کے ساحل پر امریکی بحری جہاز ’کول‘ پر ہونے والے حملے کے متاثرین کے لیے بھی ایران سے معاوضے کا مطالبہ کیا، حالانکہ اس حملے کا تعلق القاعدہ سے جوڑا جاتا رہا ہے۔






